ترقی کی نئی رفتار یا ایک اور خواب؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کی آمد ہمیشہ امیدوں اور خدشات دونوں کے ساتھ جڑی رہی ہے، اور اب ایک بار پھر 5G سروسز کے آغاز کی خبریں عوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے 5G ٹیکنالوجی کو ملک میں متعارف کروانے کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے تیار ہیں یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا؟
5G ٹیکنالوجی دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں انقلاب لا چکی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس کے ذریعے نہ صرف تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے بلکہ اسمارٹ سٹیز، خودکار گاڑیاں اور جدید صنعتی نظام بھی اسی ٹیکنالوجی کے سہارے ترقی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر 5G کامیابی سے متعارف ہو جائے تو یہ معیشت، تعلیم، صحت اور کاروبار کے شعبوں میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔
تاہم، زمینی حقائق اس خواب کو کچھ مشکل بنا دیتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ انفراسٹرکچر کا ہے۔ آج بھی ملک کے کئی علاقوں میں 3G اور 4G سروسز تسلی بخش نہیں ہیں۔ کال ڈراپ، سست انٹرنیٹ، اور نیٹ ورک کی عدم دستیابی جیسے مسائل عام ہیں۔ ایسے میں 5G کی بات کرنا کسی حد تک قبل از وقت محسوس ہوتا ہے۔ جب بنیادی سہولیات ہی مکمل نہیں تو جدید ترین ٹیکنالوجی کا فائدہ عام آدمی تک کیسے پہنچے گا؟
دوسری طرف، 5G کے نفاذ کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔ نیٹ ورک اپگریڈ، نئی ٹاورز کی تنصیب، اور جدید آلات کی فراہمی ایک مہنگا عمل ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی معاشی دباؤ موجود ہے، وہاں یہ سرمایہ کاری ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے 5G موبائل فونز اور پیکجز کی قیمتیں بھی ایک اہم مسئلہ ہوں گی، جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں کئی بڑے منصوبے اعلان کی حد تک تو کامیاب نظر آئے، لیکن عملی طور پر وہ عوام کو مطلوبہ سہولت فراہم نہ کر سکے۔ اگر 5G بھی صرف چند بڑے شہروں تک محدود رہا تو یہ ڈیجیٹل تقسیم (Digital Divide) کو مزید بڑھا دے گا، جس سے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق مزید گہرا ہو جائے گا۔
اس کے باوجود، 5G کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی دانشمندی نہیں ہوگی۔ یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے نفاذ میں شفافیت، منصوبہ بندی اور تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ پہلے موجودہ نیٹ ورک کی بہتری پر توجہ دے، دیہی علاقوں تک انٹرنیٹ کی رسائی کو یقینی بنائے، اور اس کے بعد 5G کی جانب قدم بڑھائے۔
مزید برآں، عوامی آگاہی بھی نہایت ضروری ہے۔ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے لوگوں کو اس کے استعمال اور فوائد سے روشناس کروانا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، کاروباری حلقوں اور آئی ٹی ماہرین کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ 5G صرف ایک سروس نہ رہے بلکہ ترقی کا ایک مضبوط ذریعہ بن سکے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 5G سروسز پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے سنجیدہ اقدامات، مضبوط حکمت عملی اور حقیقی نیت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو یہ جدید ٹیکنالوجی بھی صرف خبروں اور دعووں تک محدود رہ جائے گی۔