ملتان : حکومت زرعی ترقی کے لئے ریسرچ پر کھربوں روپے کا بجٹ خرچ کرنے کے باوجود کرپٹ اور نا اہل زرعی انجنیئرز اور کاغذی کارروائیوں میں مصروف نوسر بازوں کی جعل سازیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کاٹن کی پیداوار تقریباً ختم ہو گئی ہے اور اپنی ٹیکسٹائل ملز چلانے کے لئے انڈیا سے کپاس خریدنے پر مجبور ہے ۔ ان خیالات کا اظہار عوامی احتساب سیل و نیشنل لیبر الائنس کے مرکزی چیئرمین غازی احمد حسن کھوکھر نے پنجاب حکومت کی طرف سے زرعی ترقی کے لئے کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف و وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ملکی زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں مگر ملکی ضرورت کے لئے اجناس کی پیداوار پوری نہیں ہو رہی ، پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود ( میجر کراپ) گندم پوری نہیں کر سکا بیشتر سبزیاں ،فروٹس ،انڈیا، افغانستان ، ایران ، چین ،جاپان، یوکرائین ، سے منگوائی جاتی ہیں غازی احمد حسن کھوکھر نے مزید کہا کہ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ سبزیوں فروٹس سمیت متعدد اجناس کے سیڈز پاکستان میں انڈیا کے فروخت ہو رہے ہیں 78 سالوں میں پاکستان ،، آلو ،، پر ریسرچ نہیں کر سکا گزشتہ دنوں ازبکستان کے سفیر نے مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے ملاقات میں آلو کی پیداوار بڑھانے کے لئے ریسرچ بارے تعاون کا یقین دلایا ہے غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا دفاع کے شعبہ کے علاوہ پاکستان کے انجینئرز اور سائنسدانوں نے اداروں پر مسلط ہو کر ملک وقوم سے غداری کی اور اداروں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے محکمہ زراعت کی تباہی کے ذمہ داران نے ملک کو خودکفالت کی بجائے ( کنزیومر سوسائٹی) بنا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ،بے روز گاری ، غربت بے چارگی ، عام ہو چکی ہے کیونکہ ملکی زرمبادلہ بیرونی قرضوں ،اور ان پر سود کی نظر ہو جاتا ہے انھوں نے وزیراعظم ،وزراء اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ واپڈا ،ٹیلی کمنیکشن , سمیت انجنیئرز اور سائنسدانوں سے ان کا حقیقی عملی کام لیا جائے اور ان کی پرموشنز سنیارٹی کی بجائے کارکردگی کی بنیاد پر کی جائے آگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہو گا