انصاف کی راہداری میں رکاوٹیں: ملتان میں نقول کے حصول کا مشکل سفر

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

ملک کے عدالتی نظام میں شفافیت، تیزی اور سہولت کو ہمیشہ بنیادی اصول قرار دیا جاتا ہے کیونکہ انصاف صرف فیصلہ سنانے کا نام نہیں بلکہ انصاف تک بروقت اور آسان رسائی بھی اس کا لازمی حصہ ہے، مگر بدقسمتی سے عملی صورتحال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر ملتان کی عدالتوں میں نقول یعنی عدالتی فیصلوں اور دستاویزات کی مصدقہ کاپی حاصل کرنا ایک ایسا مرحلہ بن چکا ہے جو سائلین اور وکلا دونوں کے لیے مشکلات، پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کا سبب بن رہا ہے، حالانکہ عدالتی نقول کا نظام بظاہر ایک سادہ اور منظم طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے جہاں درخواست دینے کے بعد مقررہ وقت میں کاپی فراہم کی جائے، سائل کو اس کی درخواست کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے اور مقررہ فیس کے مطابق ہی تمام اخراجات وصول کیے جائیں، لیکن ملتان میں اس نظام کے اندر موجود خامیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں، سائلین اور وکلا کی بڑی تعداد اس بات کی شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ نقول مقررہ وقت میں فراہم نہیں کی جاتیں، کئی کئی دن بلکہ بعض اوقات ہفتوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس دوران کسی قسم کی کوئی واضح معلومات بھی فراہم نہیں کی جاتیں کہ نقول کب تیار ہوں گی یا ان کی فیس کتنی ہوگی، اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ عدالتوں میں کہیں بھی واضح طور پر نقول کی فیس اور متعلقہ ریٹس آویزاں نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے سائلین مکمل طور پر غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں اور اکثر انہیں غیر ضروری چکر لگانے پڑتے ہیں، ایک عام شہری جو پہلے ہی عدالتوں کے پیچیدہ نظام سے ناواقف ہوتا ہے وہ جب نقول کے حصول کے لیے درخواست دیتا ہے تو اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی درخواست کس مرحلے پر ہے، نہ ہی اسے کوئی ایس ایم ایس یا باضابطہ اطلاع دی جاتی ہے کہ نقول تیار ہو چکی ہیں یا نہیں، نتیجتاً سائلین بار بار کچہری کے چکر لگانے پر مجبور ہوتے ہیں اور اس عمل میں ان کا قیمتی وقت، پیسہ اور توانائی ضائع ہوتی ہے، اس تمام صورتحال کا ایک اور پہلو بھی سامنے آ رہا ہے جو مزید تشویش کا باعث ہے اور وہ ہے نقول کے لیے استعمال ہونے والے کورٹ فیس ٹکٹوں کی اضافی قیمت پر فروخت، اطلاعات کے مطابق کچہری کے اطراف بعض افراد سرکاری قیمت سے زیادہ رقم لے کر ٹکٹ فروخت کر رہے ہیں جس سے نہ صرف سائلین کا استحصال ہو رہا ہے بلکہ عدالتی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے، اگر عدالتوں میں واضح طور پر ٹکٹوں کی قیمتیں اور نقول کی فیس آویزاں ہوں تو اس طرح کی شکایات کی گنجائش کم ہو سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا کوئی موثر نظام موجود نہیں جس سے شفافیت یقینی بنائی جا سکے، وکلا برادری کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام میں بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے اور نقول کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے، آج کے دور میں جب موبائل فون اور ڈیجیٹل نظام ہر شعبے میں استعمال ہو رہے ہیں تو عدالتوں میں بھی ایسا نظام متعارف کروایا جا سکتا ہے جس کے ذریعے نقول کی درخواست جمع ہونے کے بعد سائل کو ایک ٹریکنگ نمبر دیا جائے اور جب نقول تیار ہو جائیں تو اسے موبائل فون پر پیغام کے ذریعے آگاہ کر دیا جائے، اسی طرح عدالتوں کے اندر واضح بورڈز آویزاں کیے جائیں جن پر نقول کی فیس، ٹکٹوں کی قیمت اور دیگر متعلقہ معلومات درج ہوں تاکہ کسی کو بھی غیر ضروری ابہام کا سامنا نہ کرنا پڑے، یہ امر بھی قابل غور ہے کہ عدالتوں میں آنے والا ہر شخص وکیل یا قانون دان نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر عام شہری ہوتے ہیں جو اپنے مسائل کے حل کے لیے انصاف کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور اگر انہیں اسی مرحلے پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صورتحال انصاف کے تصور کو ہی متاثر کرتی ہے، ملتان جو جنوبی پنجاب کا ایک بڑا عدالتی مرکز ہے یہاں روزانہ ہزاروں سائلین مختلف مقدمات کے سلسلے میں آتے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد کو نقول کی ضرورت بھی پیش آتی ہے کیونکہ اپیل دائر کرنے، قانونی کارروائی آگے بڑھانے یا کسی فیصلے کو ریکارڈ میں محفوظ رکھنے کے لیے نقول ناگزیر ہوتی ہیں، اگر یہی بنیادی سہولت بروقت اور شفاف انداز میں فراہم نہ ہو تو یہ ایک بڑا انتظامی مسئلہ بن جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی عدلیہ اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور نقول کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے، سب سے پہلے عدالتوں میں نقول کے ریٹس اور کورٹ فیس ٹکٹوں کی قیمتیں واضح طور پر آویزاں کی جائیں تاکہ سائلین کو معلوم ہو کہ انہیں کس مد میں کتنی رقم ادا کرنی ہے، اس کے ساتھ ساتھ نقول کی فراہمی کے لیے ایک مقررہ وقت کی پابندی یقینی بنائی جائے اور اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو تو اس کی واضح وجہ بھی بتائی جائے، مزید برآں ایک ایسا ڈیجیٹل یا موبائل ایس ایم ایس سسٹم متعارف کروایا جائے جس کے ذریعے سائلین کو بروقت اطلاع دی جا سکے کہ ان کی نقول تیار ہو چکی ہیں اور انہیں کب اور کہاں سے وصول کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ کچہری کے اطراف ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی بھی ضروری ہے تاکہ کسی کو بھی سائلین کے استحصال کا موقع نہ مل سکے، عدالتی نظام کی ساکھ صرف بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ چھوٹے انتظامی امور کی درستگی سے بھی قائم رہتی ہے اور نقول کا نظام انہی اہم امور میں سے ایک ہے، اگر اس نظام کو شفاف، منظم اور جدید تقاضوں کے مطابق بنا دیا جائے تو نہ صرف سائلین کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا کیونکہ انصاف کی اصل روح یہی ہے کہ ہر شہری کو بغیر کسی رکاوٹ کے بروقت اور آسانی سے انصاف تک رسائی حاصل ہو سکے۔