غریب اور مقروض ملک کے حکمران اور عوام کی کڑی آزمائش

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ریاستی خزانہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور دوسری طرف عام شہری مہنگائی کی بدترین لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے معاشی حالات اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں جبکہ حکمران طبقات کے طرزِ حکمرانی پر سوالات پہلے سے کہیں زیادہ اٹھنے لگے ہیں۔
پاکستان کو اکثر ایک غریب اور مقروض ملک کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ ملکی معیشت کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے سامنے آتا ہے کہ جب ملک معاشی بحران کا شکار ہے تو حکمرانوں کے بیرون ملک دوروں کی ترجیحات کیوں کم نہیں ہوتیں؟ عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب قومی خزانہ دباؤ کا شکار ہے تو بار بار کے غیر ملکی دوروں سے عوام کو عملی فائدہ کیا حاصل ہو رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ سفارتی روابط اور بین الاقوامی تعلقات کسی بھی ملک کی ضرورت ہوتے ہیں، لیکن جب یہی دورے عوام کے نزدیک فضول خرچی اور نمائشی سرگرمیوں کا تاثر دینے لگیں تو پھر اعتماد کا بحران پیدا ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ خطِ غربت کے قریب زندگی گزار رہے ہوں وہاں حکمرانوں کے طرزِ زندگی اور اخراجات ہمیشہ عوامی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔
دوسری جانب ملک کے اندرونی حالات بھی کسی طرح تسلی بخش نہیں ہیں۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی اکثر سوالیہ نشان بنی رہتی ہے۔ بدانتظامی، سست روی اور غیر مؤثر نظام کی شکایات ہر سطح پر سنائی دیتی ہیں۔ شہری جب کسی دفتر میں اپنا جائز کام کروانے جاتے ہیں تو انہیں فائلوں کے انبار، غیر ضروری تاخیر اور بعض اوقات رشوت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو عوام کے اندر ریاستی نظام کے بارے میں مایوسی پیدا کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے لاقانونیت کا مسئلہ بھی مسلسل بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل ہوں، قبضہ مافیا کی سرگرمیاں ہوں یا عام شہریوں کے ساتھ ناانصافیاں، اکثر معاملات میں قانون کی عملداری کمزور دکھائی دیتی ہے۔ جب ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہ کر سکیں تو معاشرے میں انتشار اور بے یقینی بڑھنے لگتی ہے۔
کرپشن کا مسئلہ بھی پاکستان کے بنیادی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ مختلف حکومتیں وقتاً فوقتاً کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرتی رہی ہیں، مگر عملی طور پر عوام کو وہ تبدیلی نظر نہیں آتی جس کی امید دلائی جاتی ہے۔ اگر کسی بھی ملک میں شفافیت اور احتساب کا نظام مضبوط نہ ہو تو پھر ترقی کی رفتار خود بخود سست پڑ جاتی ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان ایک بڑی آبادی اور محدود وسائل والا ملک ہے۔ ایسے حالات میں حکمرانی کے فیصلے انتہائی سوچ سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوام کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاستی وسائل ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو رہے ہیں نہ کہ غیر ضروری سرگرمیوں پر۔ جب حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد قائم ہو جائے تو مشکلات کے باوجود قومیں ترقی کی طرف بڑھتی ہیں۔
آج کا عام پاکستانی شہری شدید معاشی دباؤ میں زندگی گزار رہا ہے۔ تنخواہیں محدود اور اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ متوسط طبقہ جو کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے وہ بھی مالی مشکلات کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ ایسے حالات میں حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کریں اور مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
پاکستان کے مسائل کا حل صرف تنقید یا شکایت میں نہیں بلکہ اصلاح اور سنجیدہ پالیسی سازی میں ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ بیرون ملک دوروں سے اگر واقعی کوئی معاشی یا سفارتی فائدہ حاصل ہوتا ہے تو اس کی شفاف تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
اسی طرح سرکاری اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، شفاف نظام اور سخت احتساب کے بغیر اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا مشکل ہے۔ اگر عوام کو بروقت انصاف اور سہولت ملنے لگے تو ریاست کے بارے میں اعتماد خود بخود مضبوط ہو جائے گا۔
کرپشن کے خاتمے کے لیے بھی صرف نعروں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ احتساب کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو بلاامتیاز اور مؤثر ہو۔ جب قانون سب کے لیے یکساں ہو گا تو معاشرے میں انصاف کا احساس پیدا ہو گا۔
پاکستان ایک باصلاحیت قوم کا ملک ہے۔ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ریاستی نظام کو مضبوط اور شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کی توانائیاں مثبت سمت میں استعمال ہو سکیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات حکمرانوں اور اداروں دونوں کے لیے ایک امتحان ہیں۔ اگر حکمرانی میں سادگی، شفافیت اور عوامی خدمت کو ترجیح دی جائے تو یہی مشکلات بہتری کے سفر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر عوام کے مسائل کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو معاشی اور سماجی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
پاکستان کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ حکمران عوام کے احساسات کو کس حد تک سمجھتے ہیں اور ریاستی وسائل کو کس قدر دیانتداری اور دانشمندی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ اگر قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے تو یہ مقروض اور مسائل میں گھرا ملک بھی ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔