حقیقی سپر پاور اور عالمی امن: اسلامی تعلیمات کا کردار
حقیقی سپر پاور اور عالمی امن: اسلامی تعلیمات کا کردار
تحریر۔ محمد جمیل شاہین راجپوت
کالم نگار و تجزیہ نگار
تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے اپنی مادی طاقت، ٹیکنالوجی یا اسلحے کے بل بوتے پر خود کو “سپر پاور” سمجھا، زمین پر فساد برپا ہوا۔ آج کی دنیا میں جہاں ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش، اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم کا من پسند استعمال اور کمزور ممالک پر چڑھائی ایک معمول بن چکی ہے، وہاں اسلام کا تصورِ حاکمیت اور حقوق العباد کا نظام ہی امن کی واحد ضمانت نظر آتا ہے۔
1. تصورِ حاکمیت: صرف اللہ کے لیے
اسلام کا بنیادی عقیدہ ہی یہ ہے کہ کائنات کی “سپر پاور” یا حقیقی مقتدرِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جب کوئی ملک یا فرد خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگتا ہے تو وہ تکبر کا شکار ہو کر دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہے۔ اسلام سکھاتا ہے کہ طاقت ایک امانت ہے، ملکیت نہیں۔ اگر عالمی طاقتیں اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ اقتدارِ اعلیٰ کسی انسان کے پاس نہیں بلکہ ایک خالق کے پاس ہے، تو طاقت کا توازن کبھی بھی ظلم کی صورت اختیار نہیں کرے گا۔
2. غلبہ نہیں، عدل و انصاف کا قیام
آج کے جدید دور میں جنگیں دوسروں کو زیر کرنے اور وسائل لوٹنے کے لیے لڑی جا رہی ہیں۔ اس کے برعکس، اسلام میں جنگ کا مقصد زمین پر قبضہ کرنا یا خون ریزی نہیں، بلکہ ظلم کا خاتمہ اور انصاف کا قیام ہے۔
حقوق العباد (معاشرے کے حقوق): اسلام وہ دین ہے جس نے جنگ کے دوران بھی دشمن کے بوڑھوں، بچوں، عورتوں اور حتیٰ کہ درختوں تک کو نقصان پہنچانے سے منع کیا۔
حقوق و فرائض کا توازن: اگر اقوامِ عالم اسلام کے بتائے ہوئے حقوق و فرائض کے نظام کو اپنا لیں، تو کوئی بڑا ملک کسی چھوٹے ملک کی خود مختاری پر شب خون نہیں مارے گا۔
3. عالمی اداروں کا بے بس ہونا اور اسلامی حل
موجودہ جنگی تناظر میں اقوامِ متحدہ جیسے ادارے طاقتور ممالک کے ہاتھوں کا کھلونہ بن چکے ہیں۔ ویٹو پاور (Veto Power) کا استعمال اکثر انصاف کے قتل کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسلام “قوت ہی حق ہے” (Might is Right) کے فلسفے کو مسترد کرتا ہے اور “حق ہی قوت ہے” کا درس دیتا ہے۔ میثاقِ مدینہ سے لے کر خطبہ حجتہ الوداع تک، اسلام نے ایک ایسا عالمی چارٹر فراہم کیا ہے جہاں کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر فوقیت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ اور عدل کے۔
4. ایٹمی خطرات اور انسانی جان کی حرمت
جہاں آج کے نام نہاد سپر پاورز ایٹم بم کی دھمکیاں دے کر انسانیت کو خوفزدہ کر رہے ہیں، وہیں اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلام اسلحے کی دوڑ کے بجائے انسانی فلاح، بھوک کے خاتمے اور سماجی انصاف پر زور دیتا ہے۔ اگر اسلامی نظام کے اصولوں کو بین الاقوامی قوانین کی بنیاد بنایا جائے تو میزائل اور بموں کی جگہ مذاکرات اور حقوق کی پاسداری لے لے گی۔
حاصلِ کلام(شاہینیات)
موجودہ عالمی جنگی جنون کا واحد علاج اسلام کے آفاقی پیغام میں پوشیدہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ دنیا کو بتایا جائے کہ امن محض اسلحہ کم کرنے سے نہیں، بلکہ دلوں میں خالقِ کائنات کی سپر پاور کا خوف پیدا کرنے اور دوسروں کے حقوق کو اپنے فرائض سمجھنے سے آئے گا۔ اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو طاقت کے نشے میں چور دنیا کو انسانیت کا راستہ دکھا سکتا ہے۔





































Visit Today : 571
Visit Yesterday : 475
This Month : 5244
This Year : 53080
Total Visit : 158068
Hits Today : 6876
Total Hits : 707863
Who's Online : 5




















