حقوقِ صارفین کا دن اور پاکستان میں صارف کی بے بسی
حقوقِ صارفین کا دن اور پاکستان میں صارف کی بے بسی
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ہر سال 15 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ حقوقِ صارفین منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صارفین کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنا اور حکومتوں، اداروں اور کاروباری طبقے کو اس بات کا احساس دلانا ہوتا ہے کہ وہ عوام کو معیاری اور محفوظ اشیاء و خدمات فراہم کریں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس دن کو بڑی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے اور صارفین کو بہتر سہولیات دینے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں یہ دن محض ایک رسمی تقریب یا بیان تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
پاکستان میں اگر عام صارف کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں صارف سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے۔ بازار سے لے کر سرکاری اداروں تک، ہر جگہ صارف کو مشکلات، اضافی چارجز اور غیر معیاری خدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بظاہر قوانین موجود ہیں، ادارے بھی قائم ہیں، مگر عملی طور پر صارف کے حقوق کا تحفظ کہیں نظر نہیں آتا۔
سب سے بڑی مثال یوٹیلیٹی بلز کی ہے۔ بجلی، گیس اور پانی کے بلوں میں ایسے ایسے ٹیکس اور سرچارجز شامل کر دیے جاتے ہیں جن کا عام آدمی کو نہ تو علم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی کوئی واضح وضاحت دی جاتی ہے۔ ایک غریب یا متوسط طبقے کا شہری جب بل دیکھتا ہے تو اسے سمجھ نہیں آتا کہ اصل استعمال کم ہے مگر بل کئی گنا زیادہ کیوں ہے۔ یہ صورتحال صرف معاشی بوجھ ہی نہیں بلکہ صارف کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔
اسی طرح بازاروں میں اشیائے خورونوش کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ ناقص اور غیر معیاری اشیاء فروخت ہونا ایک عام بات بن چکی ہے۔ ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص گھی، غیر معیاری مصالحے اور مضر صحت کھانے روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ متعلقہ ادارے موجود ہونے کے باوجود کارروائیاں محدود اور وقتی ہوتی ہیں، جس کے باعث عوام کو مستقل تحفظ حاصل نہیں ہو پاتا۔
اگر سرکاری اداروں کی بات کی جائے تو وہاں بھی صارف کو اکثر بدانتظامی اور تاخیری رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شکایات درج کروانے کے باوجود مہینوں تک کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہمارے نظام میں صارف کو اہمیت دینے کا رجحان ابھی تک مضبوط نہیں ہو سکا۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں صارفین کے حقوق کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ وہاں اگر کوئی کمپنی ناقص چیز فروخت کرے یا کسی سروس میں دھوکہ دے تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہوتی ہے۔ صارف کو نہ صرف معاوضہ دیا جاتا ہے بلکہ کمپنیوں کو بھاری جرمانے بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ادارے صارفین کے ساتھ شفاف اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
پاکستان میں بھی صارف تحفظ کے قوانین موجود ہیں اور مختلف صوبوں میں صارف عدالتیں قائم کی گئی ہیں، مگر عوام کی بڑی تعداد کو ان کے بارے میں علم ہی نہیں۔ جو لوگ آگاہ ہیں انہیں بھی قانونی کارروائی کے پیچیدہ مراحل اور وقت کی کمی کے باعث انصاف حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ شکایت درج کروانے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ریاستی ادارے خود بھی ایسے اقدامات کر دیتے ہیں جن سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اچانک قیمتوں میں اضافہ، اضافی ٹیکسز اور غیر واضح پالیسیوں کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب ریاستی سطح پر ہی صارف کے مفاد کو نظر انداز کیا جائے تو پھر نجی اداروں سے بہتری کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عالمی یومِ حقوقِ صارفین ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے میں صارف کو تحفظ دینا انتہائی ضروری ہے۔ اگر صارف کو انصاف نہیں ملے گا تو معیشت کا نظام بھی متاثر ہوگا۔ کاروبار کی بنیاد اعتماد پر ہوتی ہے اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو معاشی سرگرمیاں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس دن کو صرف ایک رسمی دن کے طور پر نہ منائیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ صارف عدالتوں کو زیادہ فعال بنایا جائے، شکایات کے فوری ازالے کا نظام متعارف کروایا جائے اور غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اسی طرح یوٹیلیٹی بلوں میں شفافیت لائی جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ وہ کس چیز کا کتنا معاوضہ ادا کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ صارفین کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کریں۔ جب شہری اپنے حقوق سے واقف ہوں گے تو وہ ان کے حصول کے لیے آواز بھی اٹھائیں گے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عالمی یومِ حقوقِ صارفین صرف تقاریب اور بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ کیا واقعی ہمارے ملک میں صارف محفوظ ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں اجتماعی طور پر اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ کیونکہ ایک ایسا معاشرہ جہاں صارف کے حقوق محفوظ ہوں، وہی معاشرہ حقیقی ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔





































Visit Today : 571
Visit Yesterday : 475
This Month : 5244
This Year : 53080
Total Visit : 158068
Hits Today : 6874
Total Hits : 707861
Who's Online : 5




















