ملتان میں شہری حفاظت بھی جرم بن گئی؟
ملتان میں شہری حفاظت بھی جرم بن گئی؟
تحریر کلب عابد خان
03009635323
ملتان جیسے تاریخی اور گنجان آباد شہر میں جہاں ٹریفک کا دباؤ دن بدن بڑھ رہا ہے، وہاں
شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں عوام اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی اقدامات کریں، وہاں بھی بعض سرکاری اداروں کی جانب سے ایسے اقدامات کو ختم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا جب ملتان میں کارپوریشن کا عملہ سٹریٹ لائٹ کے پولز پر لگائے گئے ریفلیکٹر اسٹیکرز اتارنے پہنچ گیا۔ یہ اسٹیکرز مقامی تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت رات
کے وقت حادثات سے بچاؤ کے لیے لگائے تھے۔
اطلاعات کے مطابق کینٹ کے علاقے نصرت روڈ پر لگے سٹریٹ لائٹ پولز پر بھی ایسے ہی ریفلیکٹر اسٹیکرز نصب کیے گئے تھے تاکہ رات کے وقت گزرنے والی گاڑیوں کو پولز واضح نظر آئیں اور حادثات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ مگر حیران کن طور پر کمشنر ملتان کے حکم پر کارپوریشن کے عملے نے ان پولز سے ریفلیکٹر اسٹیکرز اتار دیے۔ شہریوں اور تاجروں کے مطابق یہ اسٹیکرز کسی اشتہار یا ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ صرف عوام کی حفاظت کے لیے لگائے گئے تھے۔
رات کے اندھیرے میں اکثر سڑکیں مناسب روشنی سے محروم ہوتی ہیں۔ ایسے میں سٹریٹ لائٹ کے پولز، ڈیوائیڈرز اور دیگر رکاوٹیں ڈرائیوروں کو واضح نظر نہیں آتیں اور کئی بار معمولی سی غفلت بڑے حادثے کا سبب بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سڑکوں پر ریفلیکٹر یا عکاس نشانات لگائے جاتے ہیں تاکہ گاڑیوں کی لائٹس پڑتے ہی وہ چمک اٹھیں اور ڈرائیور کو راستہ صاف نظر آئے۔ ملتان کے ذمہ دار تاجروں نے بھی اسی سوچ کے تحت اپنے خرچ پر سٹریٹ لائٹ پولز پر ریفلیکٹر اسٹیکرز لگائے تاکہ رات کے وقت گزرنے والے شہری محفوظ رہ سکیں۔
یہ اقدام نہ صرف قابل تعریف تھا بلکہ درحقیقت یہ کام تو متعلقہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری بنتا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اس مثبت اور عوامی مفاد کے اقدام کو سراہنے کے بجائے اسے ختم کر دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہریوں کی جان بچانے والا کام بھی اب قواعد و ضوابط کی نذر کر دیا جائے گا؟ اگر تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت حادثات سے بچاؤ کے لیے کوئی انتظام کیا ہے تو اسے ختم کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تھی۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ اکثر ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے ان لوگوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں جو معاشرے کی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر سڑکوں پر مناسب روشنی اور حفاظتی انتظامات پہلے سے موجود ہوتے تو شاید تاجروں کو خود سے یہ قدم اٹھانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ مگر جب شہری مسائل حل کرنے کے لیے خود آگے بڑھیں اور پھر انہیں روک دیا جائے تو اس سے مایوسی اور بددلی پیدا ہوتی ہے۔
یہ بھی قابل غور بات ہے کہ ملتان میں ٹریفک حادثات کی شرح پہلے ہی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ کئی مقامات پر اندھیری سڑکیں اور غیر واضح رکاوٹیں حادثات کا باعث بنتی ہیں۔ ایسے میں ریفلیکٹر اسٹیکرز جیسی چھوٹی سی چیز بھی کئی قیمتی جانیں بچا سکتی ہے۔ اگر کارپوریشن کو واقعی قانون یا ترتیب کا مسئلہ تھا تو انہیں تاجروں کے ساتھ بیٹھ کر بہتر حل نکالنا چاہیے تھا، نہ کہ فوراً انہیں اتارنے کی کارروائی شروع کر دیتے۔
حکومت اور مقامی انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شہریوں اور تاجروں کا تعاون کسی بھی شہر کی ترقی کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر عوامی سطح پر کوئی مثبت کام ہو رہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ کارپوریشن کا اصل کام شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور ان کی حفاظت یقینی بنانا ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کو ختم کرنا جو عوام کی بھلائی کے لیے کیے گئے ہوں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملتان کارپوریشن اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اس پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ اگر ریفلیکٹر اسٹیکرز واقعی شہریوں کی حفاظت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں تو انہیں اتارنے کے بجائے پورے شہر میں باقاعدہ طور پر لگانے کا منصوبہ بنایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاجروں اور شہریوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے جس سے سڑکوں کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ اگر شہری اپنی مدد آپ کے تحت جان بچانے کے اقدامات بھی نہ کر سکیں تو پھر وہ کس دروازے پر جائیں؟ اداروں کو چاہیے کہ وہ عوام کے دشمن نہیں بلکہ ان کے محافظ بنیں، کیونکہ ایک محفوظ شہر ہی ایک ترقی یافتہ شہر کی پہچان ہوتا ہے۔





































Visit Today : 512
Visit Yesterday : 475
This Month : 5185
This Year : 53021
Total Visit : 158009
Hits Today : 5888
Total Hits : 706875
Who's Online : 4




















