ملتان:  حکومت کی جانب سے سکولوں کی بندش کے فیصلے پر سینٹس سٹی پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے عہدے داران چیئرپرسن طیبہ بلال، صدر محمد ندیم قادری،سئینرنائب صدر شیخ دلشاد،جنرل سیکرٹری ظفر حسین مغل،سئینر وائس پریذیڈنٹ اشتیاق،لیڈیز ونگ کی صدر ثنا اقبال،پریس سیکرٹری الطاف حسین نے پریس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ اسکولوں کی بندش کے حکومتی فیصلہ سے نا صرف بچوں کا تعلیمی نقصان ھو گا بلکہ متوسط درجے کا سکول معاشی بحران کا شکار ھو جائیگا۔ آن لائن تعلیم کا تجربہ کورونا (COVID-19) کے دوران ناکام ثابت ہو چکا ہے، پاکستان میں لوڈشیڈنگ اور انٹرنیٹ کے مسائل کی وجہ سے آن لائن تعلیم بیشتر والدین اور اسکولوں کے لیے قابلِ عمل نہیں ہے۔ کے پی حکومت کے فیصلے کو پنجاب میں بھی لاگو کیا جائے۔ اس حکومتی فیصلے کا فیول کی بچت سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ اکثریت سکول کے بچے پیدل سکول آتے اور جاتے ہیں اور اگر پھر بھی اس پر عمل درامد کرنا ہی ھے تو ہفتہ میں 4 دن سکول کھلے رکھنے کی اجازت ھونی چاھئے۔ اسکولوں کی مکمل بندش سے تعلیم کا تسلسل بری طرح متاثر ہوگا، جسے ملک مزید برداشت نہیں کر سکتا۔سینٹس سٹی پرائیوٹ سکولزایسوسی ایشن کے عہدے داران حکومت سے پرُزور مطالبہ کرتے ہیں کہ توانائی بچانے کے لیے اسکولوں کو مکمل بند کرنے کے بجائے ہفتے میں 4 دن تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں۔ پنجاب میں تعلیمی اداروں سے متعلق کوئی بھی حتمی فیصلہ صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کیا جائے۔ایندھن کے بحران کے باوجود تعلیم کو ترجیح دی جائے اور پنجاب کے مخصوص زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر پالیسی بنائی جائے۔یہ فیصلہ تعلیمی دشمنی ہے اسکولوں کی بندش کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے متبادل حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کے بجائے ایسی حکمت عملی اپنائے جس سے توانائی کی بچت بھی ہو اور بچوں کا تعلیمی حرج بھی نہ ہو۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ مسلط کرنے سے گریز کیا جائے۔