ملتان کی سڑکیں موت کا راستہ کیوں بن گئیں؟ — تیز رفتاری اور بے احتیاطی کے بڑھتے واقعات
ملتان کی سڑکیں موت کا راستہ کیوں بن گئیں؟ — تیز رفتاری اور بے احتیاطی کے بڑھتے واقعات
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان شہر تیزی سے پھیلتا ہوا ایک بڑا شہری مرکز بنتا جا رہا ہے۔ نئی ہاؤسنگ اسکیمیں، بڑھتی آبادی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے نے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ بوسن روڈ، ناردرن بائی پاس اور شہر کے مختلف فلائی اوور وہ اہم شاہراہیں ہیں جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور ہیوی ٹریفک گزرتی ہے، مگر بدقسمتی سے انہی سڑکوں پر حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔
بوسن روڈ ملتان کی مصروف ترین سڑکوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں تعلیمی ادارے، اسپتال، شاپنگ سینٹرز اور رہائشی کالونیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے دن کے بیشتر اوقات میں ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہے۔ اسی طرح ناردرن بائی پاس ایک اہم متبادل راستہ ہے جہاں سے شہر کے اندر اور باہر جانے والی ہیوی ٹریفک بھی گزرتی ہے۔ فلائی اوورز کی تعمیر کا مقصد ٹریفک کو رواں رکھنا تھا، مگر تیز رفتاری، بے احتیاطی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نے ان سڑکوں کو حادثات کے خطرناک مقامات میں تبدیل کر دیا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ موٹر سائیکل سوار، کار ڈرائیور اور حتیٰ کہ بعض اوقات بس اور ٹرک ڈرائیور بھی حد رفتار کی پابندی نہیں کرتے، جس کے نتیجے میں معمولی سی غلطی بھی بڑے حادثے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
چند ماہ قبل برانڈ روڈ پر پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس صورتحال کی ایک دردناک مثال ہے جہاں ایک تیز رفتار کار کی ٹکر سے ایک خاتون جان کی بازی ہار گئیں جبکہ دیگر خواتین زخمی ہو گئیں۔ ایسے واقعات نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ شہری سڑکوں پر کس قدر غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ ایک لمحے کی لاپرواہی کسی خاندان کی خوشیاں چھین سکتی ہے، اور یہی حقیقت ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ ٹریفک نظم و ضبط صرف قانون نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔
ملتان میں ٹریفک کے مسائل صرف تیز رفتاری یا ڈرائیونگ کی غلطیوں تک محدود نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں کی بے وقتی منصوبہ بندی بھی شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ برانڈ روڈ اور پیر خورشید کالونی کے علاقوں میں جاری سیوریج اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے سڑکیں تنگ یا جزوی طور پر بند ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جس سے قریبی علاقوں میں شدید رش پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف شہریوں کے روزمرہ سفر پر پڑتے ہیں بلکہ مقامی کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ٹریفک کے مسائل کی وجہ سے لوگوں کی آمدورفت کم ہو جاتی ہے۔
اگر ادارہ جاتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سیف سٹی اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کی موجودگی کے باوجود شہریوں کو سڑکوں پر کوئی واضح اور مؤثر بہتری نظر نہیں آتی۔ اب تک جو اقدامات دکھائی دیتے ہیں وہ زیادہ تر جرمانوں، چالانوں اور لفٹر کے استعمال تک محدود ہیں۔ یقیناً قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف جرمانے اور گاڑیاں اٹھانا ہی ٹریفک مسائل کا حل ہے؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی حادثات کو کم کرنا ہے تو اس کے لیے سڑکوں کی بہتر منصوبہ بندی، واضح روڈ مارکنگ، اسپیڈ کنٹرول سسٹم، مناسب سگنلز اور موثر ٹریفک مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔ صرف جرمانے کرنا اس مسئلے کا مستقل حل نہیں کیونکہ اصل مقصد شہریوں کو محفوظ سفر فراہم کرنا ہونا چاہیے نہ کہ صرف سزا کا نظام قائم کرنا۔
بڑے شہروں میں ٹریفک نظم و ضبط کے لیے جدید نظام اپنائے جاتے ہیں جن میں اسپیڈ کیمرے، اسمارٹ سگنلز، لین کنٹرول اور حادثات کے خطرناک مقامات کی نشاندہی شامل ہوتی ہے۔ اگر ملتان میں بھی اسی طرز پر جامع منصوبہ بندی کی جائے تو حادثات میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کے دوران متبادل راستوں اور ٹریفک مینجمنٹ کا مؤثر انتظام بھی ضروری ہے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ٹریفک کے مسائل صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر ہر ڈرائیور حد رفتار کی پابندی کرے، لین ڈسپلن کا خیال رکھے اور ٹریفک قوانین کا احترام کرے تو حادثات کی بڑی تعداد سے بچا جا سکتا ہے۔ سڑک دراصل ایک مشترکہ جگہ ہے جہاں ہر فرد کی احتیاط دوسرے کی زندگی کو محفوظ بناتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بوسن روڈ، ناردرن بائی پاس اور شہر کے فلائی اوورز پر بڑھتے حادثات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریفک انتظامیہ، شہری ادارے اور عوام مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو تیز رفتار سڑکیں ترقی کی علامت کے بجائے حادثات کی داستانیں سناتی رہیں گی۔






































Visit Today : 50
Visit Yesterday : 577
This Month : 5300
This Year : 53136
Total Visit : 158124
Hits Today : 280
Total Hits : 708279
Who's Online : 5




















