ملتان (صفدربخاری سے) محمد الیاس خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، مرکزی چیئرمین وکلاء انقلابی تحریک (LRM) نے کہا ہے کہ آج ملک لاقانونیت اور آئین شکنی جیسے سنگین مسائل کی زد میں ہے۔ عوام کا استحصال اور انہیں آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق سے محروم رکھنا معمول بنتا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے وہ ادارے جنہوں نے آئین کے مطابق عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، بدقسمتی سے بعض مواقع پر خود آئین کی بے توقیری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی عوام کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی تو اصول پسند وکلاء نے ہمیشہ مزاحمت کی اور قربانیوں کی روشن تاریخ رقم کی۔ محمد الیاس خان نے کہا کہ وکلاء نے ماضی میں اپنی منتخب قیادتوں سے امیدیں وابستہ کیں مگر بدقسمتی سے بعض روایتی قیادتوں نے اجتماعی مفاد کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جس سے وکلاء برادری بالخصوص نوجوان وکلاء میں مایوسی پھیلی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلاء کے ساتھ بعض ججوں کے نامناسب رویوں کے خلاف بھی مؤثر آواز بلند نہیں کی گئی۔ ان حالات کے پیش نظر ملک گیر سطح پر وکلاء انقلابی تحریک (LRM) کی بنیاد رکھی گئی ہے جو وکلاء اور عوام کے مسائل کے حل اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے تمام آئین و قانون پسند وکلاء کو اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی تاکہ ملک بھر میں ایک مؤثر جدوجہد کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں تنظیم سازی کے لیے میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ کو صدر پنجاب، ملک طارق سعید ایڈووکیٹ کو سینئر نائب صدر پنجاب، اور سردار عبدالرؤف لُنڈ ایڈووکیٹ کو جنرل سیکرٹری پنجاب مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ملتان سے ندیم پاشا ایڈووکیٹ اور بہاولپور سے کلیم اللہ خان ایڈووکیٹ کو نائب صدر پنجاب مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عہدیداران تین ماہ کے اندر پورے پنجاب میں تنظیم سازی مکمل کریں گے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بعض طاقتیں ایک طرف جنگ و تشدد کو ہوا دے رہی ہیں اور دوسری طرف امن کے دعوے کر رہی ہیں، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی ایما پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور سی سی ڈی کے مبینہ ایکسٹرا جوڈیشل اقدامات کی بھی مذمت کی۔