ملتان: مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ اور ملتان کے صدر خالد محمود قریشی سے مرکزی تنظیم تاجران شجاع آباد کے ایک وفد نے مرکزی صدر حاجی اختر قریشی کی قیادت میں ملاقات کی۔ وفد میں خواجہ محمود الحسن، مرکزی جنرل سیکرٹری شجاع آباد احمد حسن سینئر نائب صدر، مرزا نعیم بیگ جنرل سیکرٹری، رانا محمد اویس علی نائب صدر، سہیل بخاری، اسد علی عدنان اور سید سجاد علی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سید جعفر علی شاہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو آمدن بڑھانے کا ذریعہ بنا لیا ہے جس کا براہ راست بوجھ عوام اور تاجر برادری پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کو اربوں روپے حاصل ہوں گے جبکہ دوسری جانب عوام پہلے ہی مہنگائی کے طوفان میں پس رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہو چکی ہے حالانکہ چین، جاپان اور بھارت بھی آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں مگر وہاں اس طرح قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔بعد ازاں خالد محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری ہمیشہ مشکل حالات میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، تاجروں نے نہ صرف حکومت کا ساتھ دیا بلکہ عوام کو بھی ریلیف فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اور بے تحاشہ اضافہ سراسر زیادتی ہے جس کے باعث مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت رمضان المبارک جاری ہے اور عید بھی قریب ہے، ایسے میں عوام پر مزید بوجھ ڈالنا کسی صورت مناسب نہیں۔اس موقع پر حاجی اختر قریشی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور کاروباری برادری کو ریلیف فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے اقدامات جاری رہے تو کاروبار تباہی کے دہانے تک پہنچ جائیں گے اور تاجر برادری شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔تاجر رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی جائے اور عوام کو فوری ریلیف دیا جائے، بصورت دیگر تاجر برادری احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔