ملتان: پاکستان فلاح پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید آفتاب عظیم بخاری نے اپنےبیان میں کہاہےکہ جنگ کا بہانہ بنا کر ظالم قابض حکمرانوں نے گزشتہ الیکشن میں عوام کی طرف سے ووٹ نا دینے کا بدلہ اور آئی ایم ایف سے اپنی عیاشیوں کیلئے لئے گئے قرض واپس کرنے کی مد میں پٹرول و ڈیزل کی قیمت کو پاکستانی 79 سالہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔حکمرانوں کوہروقت عوام کی چمڑی ادھیڑنے کی بجائے اپنے اخراجات وپروٹول و فضولیات میں کمی کرنے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ ایک طرف حکومتی نمائندگان پورے اعتماد سے اعلان کرتے رہے کہ ملک میں اٹھائیس دنوں کا پٹرولیم سٹاک موجود ہے۔ یعنی یہ وہ تیل ہے جو پرانی قیمتوں پر خریدا جا چکا تھا۔ مگر عجیب منطق ہے کہ اسی پرانے داموں خریدے گئے تیل کی قیمت یک لخت پچپن روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی۔ اس خدشے کے تحت کہ شاید کل کو مہنگا تیل خریدنا پڑ جائے۔ یعنی مستقبل کے ممکنہ خرچے کی پیشگی وصولی آج ہی عوام کی جیب سے کر لی جائے۔ یا پھر شاید حکومت نے یہ سوچا ہو کہ ایسی ہنگامی فضا میں ذرا “عید” ہی منا لی جائے۔ اور اگر عید لگ جائے تو کیا بعید کہ کہیں سے کوئی اور دس گیارہ ارب کا جہاز بھی ہاتھ آ جائے۔ اصل مسئلہ پٹرول کی قلت نہیں ہے۔ مسئلہ حکومتی ترجیحات کا ہے۔ اگر واقعی مہنگا تیل خریدنا پڑتا تو اس کے مطابق قیمت بڑھا لی جاتی عوام بھی کم از کم یہ سمجھ لیتے کہ خرچ بڑھا ہے تو بوجھ منتقل کیا جا رہا ہے۔ مگر یہاں معاملہ الٹا ہے۔ خرچ ابھی نہیں بڑھا بوجھ پہلے ہی ڈال دیا گیا اسےکہتےہیں عوامی مسائل و احساس سے چشم پوشی جو کہ ناقابل قبول ہے