ملتان:  گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ملتان اتحاد گروپ کے صدر ملک اقبال، جنرل سیکرٹری آفتاب احمد شیخ، سرپرستِ اعلیٰ فرخ شاہ، سینئر نائب صدر خالد خان مروت، سلیم بھٹی، ماسٹر جاوید، محمد سیف اور ملک ارسلان نے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کو ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے لیے سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر سے کراچی تک تمام ٹرانسپورٹرز اور کمپنی و اڈا مالکان کو سوچنا ہوگا کہ کیا وہ 330 سے 332 روپے فی لیٹر ڈیزل پر موجودہ کرایوں کے ساتھ اپنی گاڑیاں چلا کر سروائیو کر سکتے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ٹرانسپورٹرز اس صورتحال سے مطمئن نہیں تو انہیں اس معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی مالکان، اڈا مالکان اور گاڑی مالکان کو مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا جاتا ہے کہ پرانے کرایوں پر گاڑیاں چلانا اب ممکن نہیں رہا کیونکہ ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر پہلے ہی مہنگے ڈیزل، ٹول پلازوں کی بڑھتی تعداد، مہنگے سپیئر پارٹس اور ٹائروں کے اخراجات کے باعث شدید دباؤ میں تھا اور ٹرانسپورٹرز بڑی مشکل سے اپنا نظام چلا رہے تھے۔ ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ اس صنعت کے لیے سونے پر سہاگہ ثابت ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گاڑی مالکان قسطوں پر گاڑیاں خرید کر اپنے گھروں کے چولہے جلا رہے ہیں، لیکن بڑھتے اخراجات کے باعث فی چکر آمدن نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس سے ڈرائیور اور دیگر عملے کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔عہدیداران نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث ملتان سے مختلف شہروں کے لیے گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فی ٹرپ تقریباً 50 سے 55 ہزار روپے تک اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ گاڑی مالکان اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بچایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل مہنگا ہونے کے اثرات صرف ٹرانسپورٹرز تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت اور عام آدمی تک پہنچتے ہیں کیونکہ محلوں میں ہونے والے فیصلوں کے نتائج آخرکار جھگیوں تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہوتی ہے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور اس کا بوجھ غریب اور دیہاڑی دار طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ریلیف دیا جائے بصورت دیگر ٹرانسپورٹرز احتجاج اور ہڑتال سمیت دیگر آپشنز پر غور کرنے پر مجبور ہوں گے۔