خواتین کا عالمی دن جدوجہد کامیابیاں اور پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے جاری چیلنجز
خواتین کا عالمی دن جدوجہد کامیابیاں اور پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے جاری چیلنجز
تحریر: ایس پیرزادہ
آج دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر نہ صرف خواتین کی تاریخی جدوجہد اور کامیابیوں کو یاد کیا جا رہا ہے بلکہ خواتین کے حقوق مواقع اور معاشرتی مقام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی زندگی تعلیم صحت اور کام کے میدان میں شراکت صرف ان کا حق نہیں بلکہ معاشرتی ترقی کی بنیاد بھی ہے
خواتین کی کامیابیاں اور جدوجہد گزشتہ دہائیوں میں خواتین نے ہر شعبے میں اپنی موجودگی کا ثبوت دیا ہے۔ سیاست تعلیم صحت میڈیا سائنس اور کاروبار میں خواتین نے ناقابلِ یقین کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کئی رکاوٹیں توڑ دی ہیں جو صنفی تعصبات اور معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے خواتین کے لیے مشکلات پیدا کرتی رہی ہیں
تعلیم کے شعبے میں خواتین کی شمولیت نے معاشرے کی مجموعی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین نہ صرف اپنے خاندان کی ترقی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ معاشرتی مسائل کے حل میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہیں
صحت کے شعبے میں بھی خواتین کی بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جیسے حاملہ خواتین کی صحت بچے کی ابتدائی پرورش اور خواتین کے لیے محفوظ طبی سہولیات کا نظام مضبوط کرنا جس سے نسلوں کی بہتری ممکن ہوئی ہے۔ معاشرتی اور اقتصادی میدان میں خواتین نے اپنی جدوجہد کے ذریعے وہ راستے کھولے ہیں جو پہلے صرف مردوں کے لیے مخصوص تھے کاروبار سیاست میڈیا اور سماجی خدمات میں خواتین کی قیادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنس کی بنیاد پر کسی کو کمتر نہیں سمجھا جا سکتا
خواتین کے عالمی دن کا آغاز 1900 کی دہائی کے اوائل میں ہوا جب خواتین نے مزدوری ووٹنگ اور مساوی حقوق کے لیے جدوجہد شروع کی 1910 میں کوپن ہیگن میں عالمی سوشلسٹ کانگریس نے خواتین کے عالمی دن کو منانے کی تجویز منظور کی اور پہلی بار 1911 میں آسٹریا ڈنمارک جرمنی اور سویٹزرلینڈ میں خواتین کے حقوق کے لیے یہ دن منایا گیا
1945 میں اقوام متحدہ نے خواتین کے عالمی دن کو رسمی طور پر تسلیم کیا اور ہر سال 8 مارچ کو منانے کا اعلان کیا اس دن کی تقریبات سیمینارز اور مظاہرے خواتین کی مساوی حقوق صنفی مساوات اور “زیرو ٹالرنس” کے نعرے کو اجاگر کرتے ہیں
پاکستان میں خواتین کے حقوق اور چیلنجز
پاکستان میں خواتین کو ابھی تک وہ مقام حاصل نہیں ہوا جو اسلام نے انہیں دیا قرآن مجید نے 1400 سال قبل خواتین کو حقوق دینے میں پیش قدمی کی جیسے تعلیم کا حق میراث میں حصہ اور معاشرتی احترام مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی بھی خواتین کو وہ مقام نہیں ملا جس کا وعدہ ماضی کی سیاسی قیادت نے کیا تھا
2010 میں خواتین کے لیے ایک ایکٹ بنایا گیا جو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ترقی کے لیے اہم تھا ہراسمنٹ کیسزخواتین کے حقوق کے کئی مسائل سامنے آئے ہیں اور ہراسگی ظلم و زیادتی اور ناانصافی کے کیسز زیر التوا ہیں
خاص طور پر پی ٹی وی ملتان سینٹر جو جنوبی پنجاب میں پی ٹی وی کی نمائندگی کرتا ہے میں ہراسگی کیسز ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں لیڈی سرچرز پروگرام کوآرڈینیٹرز سمیت کئی خواتین اور لڑکیاں جو سکرین پر کام کرنے کا شوق رکھتی تھیں ہراسگی اور ناانصافی کا شکار ہیں چھوٹے اور بڑے ملازمین بار بار ٹرانسفر کروا رہے ہیں تاکہ اپنے تحفظ کو یقینی بنا سکیں شکایت کرنے والوں کے خلاف ہی الٹا انھی پر کاروائیاں کی گئیں انھیں اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا تمام ثبوت سی سی ٹی وی فٹیجز دستاویزات شکایات اور رپورٹس موجود ہونے کے باوجود پی ٹی وی ملتان کے مجرم سزا یافتہ لوگ اب بھی بلا خوف اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں سیاسی بھرتیاں اور غیر مناسب تعیناتیاں ایکسٹینشن صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہیں اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور متعلقہ قیادت کی خاموشی اس بحران کو ایک سوالیہ نشان بنا دیتی ہے
بطور وائس چیئر پرسن ساؤتھ پنجاب پاکستان یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) اور پریزیڈنٹ ڈومیسٹک ورکرز یونین ملتان میں اور ہماری ٹیم خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے فعال ہیں ہم ہراسگی ناانصافی اور معاشرتی دباؤ کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور خواتین کو اپنے حقوق کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں ہمارا مقصد صرف شکایت درج کرانا نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے خواتین اور ملازمین کے لیے محفوظ اور برابری پر مبنی کام کا ماحول یقینی بنانا ہے
یہ عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی جدوجہد صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی ہے جب خواتین مضبوط ہوں گی معاشرہ بھی مضبوط ہوگا آج کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر عورت کی جدوجہد ہر کوشش اور ہر کامیابی معاشرتی ترقی اور انصاف کی ضمانت ہے پاکستان میں خواتین کو وہ مقام دینے کی ضرورت ہے جو قرآن مجید نے دیا اور جس کی ضرورت معاشرتی انصاف کے لیے ہے پی ٹی وی ملتان کے کیسز اور زیر التوا انکوائریاں واضح پیغام دیتے ہیں کہ جب تک سیاسی اثر و رسوخ بھرتیاں اور خاموشی برقرار ہیں خواتین اور چھوٹے بڑے ملازمین محفوظ نہیں ہیں چھوٹے اور بڑے ملازمین افسران خواتین اور لڑکیاں انصاف کی منتظر ہیں میں اپیل کرتی ہوں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف مریم نواز عطاء تارڈ صاحب سے ہی ٹی وی ملتان کے تمام کیسیز کی شفاف انکوائری کروائی جائے تاکہ خواتین مضبوط ہوں پاکستان مضبوط ہو میری طرف سے تمام خواتین کو ان کے عالمی دن پر مبارک باد





































Visit Today : 79
Visit Yesterday : 577
This Month : 5329
This Year : 53165
Total Visit : 158153
Hits Today : 517
Total Hits : 708516
Who's Online : 10




















