عالمی یومِ مصنفین قلم جدوجہد اور میرا عہد
عالمی یومِ مصنفین قلم جدوجہد اور میرا عہد
تحریر:ایس پیرزادہ
آج عالمی یومِ مصنفین کے موقع پر میں دنیا بھر کے تمام قلم کاروں صحافیوں شاعروں اور دانشوروں کو سلام پیش کرتی ہوں یہ دن ہمیں
یاد دلاتا ہے کہ قلم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ایک امانت اور ایک جہاد ہے سچ کا جہاد
اس دن کی بنیاد عالمی تنظیم نے رکھی تاکہ لکھنے والوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے کیونکہ اگر قلم آزاد نہ ہو تو معاشرہ فکری طور پر قید ہو جاتا ہے
میں اپنی زندگی کے اس سفر کو دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میرا قلم اور میری عملی جدوجہد ایک دوسرے سے جدا نہیں میں صرف کالم نگار یا شاعرہ نہیں ںبلکہ میدانِ عمل میں بھی سرگرم ہوں
بطور وائس چیئرپرسن ساؤتھ پنجاب میں مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہوں اسی طرح میں ڈومیسٹک ورکرز یونین صدر ملتان کے طور پر کے پلیٹ فارم سے گھریلو ملازمین بالخصوص خواتین ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہوں
اس کے ساتھ ساتھ مختلف این جی اوز اور سول سوسائٹی فورم بی بی سی کے ساتھ مل کر سماجی انصاف خواتین کے تحفظ مزدوروں کے وقار اور انسانی حقوق کے لیے عملی کردار ادا کر رہی ہوں
میری صحافتی اور ادبی تحریروں میں بھی یہی موضوعات جھلکتے ہیں مزدور کی فریاد عورت کی استقامت معاشرتی ناانصافی کے خلاف آواز اور امید کی شمع میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مشکلات دباؤ ہراسمنٹ اور رکاوٹوں کا سامنا کیا مگر میں نے قلم نہیں چھوڑا کیونکہ میرا ایمان ہے کہ خاموشی ظلم کو طاقت دیتی ہے اور آواز ظلم کو کمزور کرتی ہے
ہماری ادبی اور صحافتی تاریخ ایسے بے باک ناموں سے روشن ہے جیسے جنہوں نے آمریت کے سامنے کلمۂ حق کہا اور جنہوں نے امید مزاحمت اور انقلاب کو شاعری کا رنگ دیا
آج کے دور میں بھی قلم کاروں کو دباؤ سنسرشپ اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے مگر اس کے باوجود سچ لکھنے والے موجود ہیں میں اپنے تمام صحافی ساتھیوں کالم نگاروں اور سماجی کارکنوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ ہم سب کا مشن ایک ہے سچ کی حفاظت اور کمزور کی حمایت
میری جدوجہد صرف ذاتی نہیں اجتماعی ہے میرا قلم صرف میرے لیے نہیں ان مزدور خواتین کے لیے ہے جو صبح سے شام تک محنت کرتی ہیں ان یتیم بچوں کے لیے ہے جو سہارے کے منتظر ہیں ان صحافیوں کے لیے ہے جو دباؤ کے باوجود سچ لکھتے ہیں
عالمی یومِ مصنفین کے موقع پر میرا عہد ہے کہ میں قلم اور کردار دونوں محاذوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی میں سچ لکھوں گی حق کا ساتھ دوں گی اور کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکوں گی
اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت دے کہ ہم قلم کی حرمت کو قائم رکھ سکیں مظلوم کا سہارا بن سکیں اور معاشرے میں انصاف کی شمع روشن رکھ سکیں
قلم زندہ رہے سچ تابندہ رہے





































Visit Today : 79
Visit Yesterday : 577
This Month : 5329
This Year : 53165
Total Visit : 158153
Hits Today : 511
Total Hits : 708510
Who's Online : 10




















