ملتان: پینے کے پانی کا بحران — انتظامی غفلت یا ترجیحات کا المیہ؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

ملتان جو اولیائے کرام کی سرزمین کہلاتا ہے، جہاں روحانیت کی خوشبو اور تہذیب کی مٹھاس صدیوں سے فضا میں رچی بسی ہے، آج ایک ایسے بنیادی مسئلے سے دوچار ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی زندگی سے ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور شہری مجبور ہیں کہ آلودہ اور غیر معیاری پانی استعمال کریں۔ یہ مسئلہ محض ایک انتظامی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کے بگاڑ اور منصوبہ بندی کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
خبر کے مطابق واسا کی جانب سے فراہم کیا جانے والا پانی متعدد علاقوں میں مٹیالا اور بدبودار ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد گیسٹرو، ہیپاٹائٹس اور دیگر معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر شہریوں کو صاف پانی جیسی بنیادی سہولت میسر نہ ہو تو پھر ترقی کے دعوے کس حد تک معتبر رہ جاتے ہیں؟ شہر کے مختلف محلوں میں فلٹریشن پلانٹس تو نصب کیے گئے، مگر ان کی دیکھ بھال نہ ہونے کے برابر ہے۔ کئی فلٹر پلانٹس بند پڑے ہیں، کچھ میں موٹر خراب ہے تو کہیں فلٹر تبدیل نہیں کیے گئے۔ نتیجتاً عوام کو وہی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے جس سے بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
اس بحران کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شہر بھر میں جگہ جگہ پانی فروخت کرنے کی دکانیں کھل چکی ہیں۔ شہری گیلن اور کین اٹھائے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر مقامات پر کوئی سرکاری ریٹ لسٹ آویزاں نہیں۔ نہ قیمت کا واضح تعین ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ فروخت ہونے والا پانی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ شدہ اور معیاری بھی ہے یا محض عام فلٹر سے گزار کر بیچا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے نہ تو باقاعدہ انسپیکشن کی جاتی ہے اور نہ ہی معیار کی تصدیق عوام کے سامنے لائی جاتی ہے۔ یوں صاف پانی ایک منافع بخش کاروبار تو بن گیا ہے مگر اس کی شفافیت اور نگرانی کا کوئی واضح نظام دکھائی نہیں دیتا۔
یہ صورت حال اس بات کی عکاس ہے کہ جب ریاست اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو جائے تو خلا کو غیر منظم نجی کاروبار پُر کر لیتے ہیں۔ پانی بیچنے والوں میں یقیناً کئی ذمہ دار لوگ بھی ہوں گے، مگر جب تک باقاعدہ لائسنسنگ، معیار کی جانچ اور سرکاری نرخ نامے کا نظام نافذ نہیں ہوگا، شہری استحصال کا شکار ہوتے رہیں گے۔ غریب آدمی جو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے، اب صاف پانی کے نام پر من مانی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہے۔
یہ مسئلہ صرف پانی کی کمی کا نہیں بلکہ معیار کا بھی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے اور جو پانی دستیاب ہے وہ کیمیکل آلودگی اور سیوریج کے پانی کی آمیزش کے باعث انسانی صحت کے لیے خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ شہر میں سیوریج لائنوں کی خستہ حالی کے باعث گندا پانی پینے کے پانی کی لائنوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ جب تک انفراسٹرکچر کی مکمل بہتری نہیں ہوگی، محض وقتی اقدامات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرے۔ پانی کے نمونوں کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ ہونی چاہیے اور نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔ جو دکانیں پانی فروخت کر رہی ہیں، ان کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ مستند ٹیسٹ رپورٹس نمایاں طور پر آویزاں کریں اور سرکاری نرخ نامہ واضح طور پر ڈسپلے کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے اور دکان کی سیلنگ جیسے اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو معیاری پانی مناسب قیمت پر میسر آ سکے۔
ملتان جیسے تاریخی شہر میں ترقیاتی منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں، چوک سجائے جاتے ہیں، مگر پانی جیسی بنیادی ضرورت نظر انداز ہو جاتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ نمائشی منصوبوں کے بجائے بنیادی سہولیات کو ترجیح دی جاتی؟ عوام کو خوبصورت فواروں سے زیادہ صاف پانی درکار ہے۔ شہریوں کی صحت کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اس بحران کا ایک پہلو ماحولیاتی آلودگی بھی ہے۔ فیکٹریوں کا کیمیکل فضلہ اور گھریلو گندگی بغیر مناسب ٹریٹمنٹ کے زیر زمین پانی کو متاثر کر رہی ہے۔ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر صنعتوں کو جوابدہ نہ بنایا گیا تو آنے والے برسوں میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی محض ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد ہے۔
شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ پانی کا بے دریغ استعمال، نل کھلا چھوڑ دینا، گاڑیوں کی دھلائی میں صاف پانی کا ضیاع اور گھروں میں لیکیج کی مرمت نہ کرانا بھی بحران کو بڑھا رہا ہے۔ ہمیں اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے پانی کے تحفظ کی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ واسا اور متعلقہ اداروں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ پرانی پائپ لائنوں کی تبدیلی، فلٹریشن پلانٹس کی باقاعدہ مرمت اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی ایک شفاف شکایتی نظام ہونا چاہیے جہاں شہری اپنی شکایات درج کرا سکیں اور ان کا فوری ازالہ ہو۔
حکومت پنجاب کو بھی چاہیے کہ وہ ملتان کے اس مسئلے کو خصوصی توجہ دے۔ اگر شہر کی آبادی بڑھ رہی ہے تو اسی تناسب سے بنیادی سہولیات میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ محض اعلانات اور بیانات سے عوام کا پیاسا گلا تر نہیں ہوگا۔ عملی اقدامات ہی اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔
ملتان کی پہچان اس کے مزارات، آموں اور تہذیب سے ہے، مگر اگر یہاں کے باسی صاف پانی کو ترسیں گے تو یہ شناخت بھی متاثر ہوگی۔ ہمیں اس شہر کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو پانی کے مسئلے کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ ہر ذمہ دار ادارے کو اپنی کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پانی کا بحران محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے۔ اگر آج سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے گئے تو کل یہ مسئلہ ایک بڑے انسانی المیے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، انتظامیہ اور شہری سب مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں۔ کیونکہ صاف پانی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی میں کوتاہی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔