تیسری عالمی جنگ کا خطرہ

تحریر:  طارق قریشی

دنیا پر ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے بادل چھا گئے ہیں۔ اب تک اس میں سات ممالک ایران، اسرائیل، امریکہ، اردن، یمن، لبنان اور فلسطین براہ راست ملوٹ ہوچکے ہیں۔ شام بھی اس سارے معاملے میں پہلے سے شامل ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے گزشتہ روز اسرائیل پر براہ راست اپنی سرزمین سے حملہ کرکے اسرائیل پر دو سو سے زائد ڈرون اور کروز میزائل برسا دیئے ہیں۔ ایرانی پاسدران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے۔ ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل میں پچاس فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے اسرائیلی فضائی اڈے کو خیبر میزائلوں سے ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے دو سو ڈورنز اسرائیلی علاقوں تک پہنچے، زمین سے زمین پر مار کرنے والے درجنوں ایرانی میزائلوں میں سے کچھ میزائلوں سے اسرائیل میں حملہ ہوا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا کہ ایرانی ڈرونز سے جنوبی اسرائیل میں فوجی اڈے کو نقصان پہنچا ہے۔ ادھر یمن کے حوثیوں اور لبنان کی حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر حملہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیل کی حمایت میں امریکا اور اردن نے اسرائیل کیجانب جانیوالے کئی ایرانی ڈرونز مار گرائے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے اردن سرحد کے قریب متعدد ایرانی ڈرونز مار گرائے۔ ذرائع کے مطابق اردن کے جیٹ طیاروں نے بھی شمالی اور وسطی اردن سے اسرائیل کی طرف جاتے درجنوں ایرانی ڈرونز کو مار گرایا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن کی جانب سے اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پر انکی نظر ہے اردن انکا اگلا ہدف ہوسکتا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکہ کو خبر دار کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کی حمایت نہ کرے اور ایران کے مفادات کو بھی نقصان نہ پہنچائے۔ دوسری جانب ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی کمپنی کا جہاز بھی قبضے میں لےلیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق پرتگالی جہاز ’ایم ایس سی ایریز‘ اسرائیلی ارب پتی ایال اوفر کی کمپنی کا ہے۔ اسی حوالے سے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز پر سترہ بھارتی، دو پاکستانی، چار فلپائنی، ایک روسی اور استونیا کا ایک باشندہ سوار ہے۔ اسی صورتحال کے حوالے سے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمیں عالمی جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں عالمی جنگ کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کی جنگ تیسری عالمی جنگ میں بدل سکتی ہے اور جو کچھ اسرائیل اور ایران میں ہو رہا ہے وہ بھی ہمیں عالمی جنگ کی طرف لے جاسکتا ہے۔ اگر میں صدر ہوتا تو کبھی روس اور یوکریں کی جنگ نہیں ہوتی۔ الغرض تین ممالک ایران، لبنان اور یمن کے اسرائیل پر بیک وقت حالیہ حملے کے بعد واضح خدشہ ہے تقریبا 35 ہزار فلسطینی باشندوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا اسرائیل چپ نہیں بیٹھے گا اور وہ کوئی نہ کوئی جوابی کارروائی کرے گا۔ جس کے بعد خطے کے دیگر ممالک سمیت دنیا بھر کیلئے اس تنازعہ کی تپش سے بچنا ممکن نہیں رہے گا جسے حماس نے گزشتہ سال اسرائیل پر حملہ کرکے بھڑکایا تھا۔