مہنگائی مافیا کی آزادی: رمضان میں صارفین کا امتحان
مہنگائی مافیا کی آزادی: رمضان میں صارفین کا امتحان
تحریر: کلب عابد خان | 03009635323
ملتان شہر کی گلیاں، بازار اور مارکیٹیں رمضان المبارک کے ایام میں ہر سال ایک ہی منظر پیش کرتی ہیں۔ دعوے اور وعدے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر عوام کے لیے اشیائے خوردونوش، پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں قابو پانا انتظامیہ کے لیے ایک خواب سا بن کر رہ جاتا ہے۔ ملتان کی انتظامیہ اور ضلع کے 47 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بڑے بڑے دعووں کے باوجود رمضان کے مہینے میں مہنگائی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ ہر سال رمضان سے پہلے پرائس کنٹرول کے نام پر بڑی میڈیا مہم چلائی جاتی ہے، نوٹس اور ہدایات جاری کی جاتی ہیں، مگر جیسے ہی رمضان کے دن شروع ہوتے ہیں، قیمتوں کا آسمان چھونے لگتا ہے اور عوام کی جیبیں خالی ہو جاتی ہیں۔
اس مہنگائی کی بنیادی وجہ مہنگائی مافیا کی مکمل آزادی ہے۔ بازار میں فروٹ، سبزی، گوشت، آٹا اور دیگر اشیاء کی قیمتوں کو اپنی مرضی سے بڑھانا اور کم کرنا اس مافیا کے ہاتھ میں ہے۔ انتظامیہ کے محدود اقدامات اور نااہلی کی وجہ سے یہ لوگ ہر سال رمضان میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گاہک مجبور ہیں، کیونکہ رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء کی طلب عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس موقع کو دیکھ کر مافیا اپنی لوٹ مار جاری رکھتا ہے اور انتظامیہ صرف دعوے بازی تک محدود رہ جاتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ ہے جو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے: ہر دکاندار کے اپنے اخراجات ہوتے ہیں۔ کرایہ، بجلی، اسٹاف اور دیگر اخراجات کے باعث وہ قیمتیں بڑھا کر رکھتا ہے، اور یہ کسی حد تک قابل فہم ہے۔ لیکن مارکیٹ میں چھوٹے اور ریڑھی والے کاروباری حضرات کا معاملہ مختلف ہے۔ ریڑھی والے سرکاری سڑکیں استعمال کرتے ہیں، ان کا کوئی کرایہ نہیں، بجلی کے بل کی بھی فکر نہیں، اور دیگر بڑی لاگتیں بھی نہیں ہوتیں، پھر بھی وہ سرکاری مقررہ ریٹس کے مطابق فروخت نہیں کرتے۔ یہ بات صاف ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراجات کے جواز پر قیمتیں بڑھانا نہیں بلکہ مارکیٹ میں منافع خورانہ رویہ اور نظام کی ناکامی کا بھی بڑا کردار ہے۔ عوامی مفاد میں، ریڑھی والے سرکاری ریٹس پر اشیاء فروخت کریں تو عام آدمی کی سہولت اور رمضان کے مقدس مہینے کی برکت برقرار رہ سکتی ہے۔
اگر ہم حقیقت کو غور سے دیکھیں تو یہ ناکامی عارضی نہیں بلکہ نظامی ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور دیگر حکام کے پاس قوانین اور اختیارات موجود ہیں، لیکن ان کا نفاذ یا تو محض کاغذی حد تک رہ جاتا ہے یا پھر کمزور نگرانی کی وجہ سے عملی شکل اختیار نہیں کر پاتا۔ بازاروں میں موجود اشیائے خوردونوش کے نرخوں پر نظر رکھنے اور مہنگائی روکنے کی ذمہ داری صرف رمضان کے لیے نہیں بلکہ پورے سال کے لیے ہونی چاہیے۔ اگر سارا سال قیمتوں پر کنٹرول برقرار رکھا جائے تو رمضان میں گراں فروشی کے واقعات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ملتان کے عوام کی مشکلات صرف قیمتوں میں اضافہ تک محدود نہیں ہیں۔ رمضان میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ گاہک جو پہلے ہی روزہ رکھنے کی عبادت میں جسمانی اور مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں، وہ اب مارکیٹ کی قیمتوں کے بوجھ تلے مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔ گوشت، دودھ، چینی، آٹا، چاول اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں بھی معمول سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور ہر سال یہی منظر دہراتا ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کی اس ناکامی کی وجہ صرف نگرانی کا فقدان نہیں بلکہ قوانین کے نفاذ میں تاخیر، بدانتظامی اور بعض اوقات کچھ اہلکاروں کی ملی بھگت بھی ہے۔ جب مارکیٹ میں کنٹرول سخت نہیں ہوتا تو دکاندار، ریڑھی والے اور مافیا سب مل کر عوام سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے موقع پر بازاروں میں قیمتوں کی گراں فروشی عام عمل بن گئی ہے، چاہے اخراجات جتنے بھی ہوں یا نہ ہوں۔
اہم سوال یہ ہے کہ عوام کو اس مہنگائی کے تسلسل سے کیسے بچایا جائے؟ سب سے پہلے تو انتظامیہ کو پرائس کنٹرول کے نظام کو فعال بنانا ہوگا۔ بازاروں میں ریگولر چیکنگ، قیمتوں کی نگرانی، اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری کارروائی لازمی ہے۔ ساتھ ہی، عوام کو بھی قیمتوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ کسی غیر قانونی یا زائد قیمت پر فروخت ہونے والی اشیاء سے محفوظ رہ سکیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پرائس لسٹ اور رہنما اصول عام کرنے سے بھی مارکیٹ میں شفافیت لائی جا سکتی ہے۔
مزید برآں، انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صرف رمضان کے مہینے کے لیے نہیں بلکہ سال بھر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مستقل حکمت عملی اختیار کرے۔ اگر پورے سال مارکیٹ میں قیمتوں پر کنٹرول قائم رہے گا تو رمضان کے مہینے میں اچانک قیمتوں میں اضافے کا رجحان کم ہو جائے گا اور عوام کی مالی مشکلات میں کمی آئے گی۔ یہ انتظامی سستی اور مہنگائی مافیا کی طاقت کے خلاف ایک مؤثر اقدام ہو سکتا ہے۔
عوامی شکایات اور پرائس کنٹرول کے نوٹس اکثر میڈیا میں سامنے آتے ہیں، لیکن عملی اقدامات کی کمی اور دیر سے کارروائی کی وجہ سے یہ سب محض کاغذ پر ہی رہ جاتا ہے۔ عوام اب صرف دعووں اور وعدوں پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نہ لیا تو رمضان المبارک کی آمد پر مہنگائی کا ہر سال ایک ہی قصہ دہرانا جاری رہے گا۔
آخر میں، ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اس مسئلے کو اجاگر کریں۔ شہری، حکومتی اہلکار اور میڈیا سب کا فرض بنتا ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف آواز بلند کریں اور بازار میں شفافیت کے لیے اقدامات کریں۔ رمضان کے مقدس مہینے میں عوام کو عبادت کے ساتھ ساتھ مالی سکون بھی فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر پرائس کنٹرول کا نظام مضبوط ہو، عوام کو آگاہ کیا جائے، اور بدعنوان عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تو رمضان میں گراں فروشی جیسے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
ملتان کی انتظامیہ، ضلع کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ صرف دعوے بازی تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو مہنگائی مافیا کے رحم و کرم سے آزاد کرائیں۔ دکانداروں کے اخراجات کو سمجھنا بھی ضروری ہے، لیکن ریڑھی والوں کی صورت میں یہ جواز نہیں بنتا کیونکہ وہ سرکاری سڑکیں استعمال کرتے ہیں، کرایہ یا بجلی کا بل نہیں دیتے، اور پھر بھی سرکاری مقررہ ریٹس پر فروخت نہیں کرتے۔ یہی واحد راستہ ہے کہ رمضان کے ایام میں ہر گھر تک ضروریات زندگی مناسب قیمت پر پہنچ سکیں اور عوام کا رمضان بابرکت اور خوشحال گزرے۔







































Visit Today : 390
Visit Yesterday : 577
This Month : 5640
This Year : 53476
Total Visit : 158464
Hits Today : 2588
Total Hits : 710587
Who's Online : 7



















