بیساکھی کے موقع پر کسان عورت کے حقوق اجاگر کرنے کی مہم شروع،، ملتان پریس کلب میں کسان رہنماؤں کی پریس کانفرنس، زرعی بحران پر تشویش
ملتان: بیساکھی کے موقع پر چھوٹے اور بے زمین کسانوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور زرعی شعبے کو درپیش سنگین مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے سوجھلا فار سوشل چینج اور پاکستان کسان مزدور تحریک کی جانب سے ایک جامع عوامی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس مہم کا مقصد گندم کی پیداوار کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور بے زمین کسانوں خصوصاً کسان عورت کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے ملتان پر یس کلب میں ظہورجو ئیہ،چو ہدری محمد اسلم،محمدصادق نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں زراعت تیزی سے کارپوریٹ قبضے کا شکار ہورہی ہے، جہاں بڑی کمپنیوں اور سرمایہ داروں کا قبضہ بڑھتا جارہا ہے جبکہ چھوٹے اور بے زمین کسان وسائل، زمین اور منڈیوں تک رسائی سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔مقررین نے زور دیا کہ زمینوں کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بے زمین کسانوں کو بھی زمین تک رسائی حاصل ہو سکے اور وہ باعزت روزگار کما سکیں۔ اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ مقامی وسائل، زمین، پانی اور بیج، پر پہلا حق کسانوں کے ساتھ ساتھ مقامی دیہی آبادیوں کا ہونا چاہیے۔ خاص طور پر موجودہ حالات میں جب سامراج کی طرف سے جنگ مسلط کی جارہی ہے زمین اور خوراک کے حق کی جدوجہد اور مطالبہ اولین ہوجاتی ہے۔ کیونکہ سامراجی جنگ کی صورت میں عام عوام کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ دیہی آبادی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایگروایکالوجی پر مبنی پائیدار زراعت نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ یہ خوراک خودمختاری کو بھی یقینی بناتی ہے۔ کمپنیوں کی بیجوں، زرعی کیمیائی ادویات اور کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرکے دیسی طریقہ کاشت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ کسان زرعی پیداوار میں خود مختار بن سکیں۔اس مہم کے تحت مختلف سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی جن میں پریس کانفرنس، پوڈ کاسٹ سیریز، ایک ہفتے پر مشتمل ریڈیو پیغامات، بیساکھی تقریبات اور کسان بیٹھک، گندم کی کٹائی کی تقریب اور تھیٹر پرفارمنس شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد نہ صرف بیساکھی کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ ایک مضبوط عوامی مکالمہ تشکیل دینا بھی ہے، تاکہ کسانوں کے مسائل کے پائیدار حل تلاش کیے جاسکیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر حکومت، پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ کارپوریٹ اجارہ داری کو روکا جائے، چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے حقوق کا تحظ کیا اور ایگروایکالوجی /دیسی زراعت اور مقامی بیجوں کو فروغ دیا جائے۔







































Visit Today : 412
Visit Yesterday : 577
This Month : 5662
This Year : 53498
Total Visit : 158486
Hits Today : 2747
Total Hits : 710746
Who's Online : 4



















