ملتان(صفدربخاری سے)ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے زیر اہتمام بعنوان ”تعزیتی ریفرنس آیت اللہ العظمیٰ رہبر سید علی خامنہ بیاد شہداء اسلام شہدائے ایران و غزہ” ملتان میں منعقد ہوا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، مذہبی و سیاسی و تاجر و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب سے ممتاز شخصیات جاوید ہاشمی، عبدالوحید آرائیں حافظ محمد اسلم، محمد ایوب مغل، سلیم عباس صدیقی، علامہ سید اقتدار حسین نقوی، یافث نوید ہاشمی،علامہ خالد فاروقی، ڈاکٹر محمد اجمل مدنی، نفیس احمد انصاری،حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن ایڈووکیٹ، امارہ طاہر، خانم زاہدہ بخاری، قاضی نادر حسین علوی،علامہ مجاہد عباس گردیزی، بشارت قریشی، خواجہ محمد عاصم ریاض، علامہ عبد الحق مجاہد، راؤ عارف رضوی، ممتاز صحافی مظہر جاوید، رفیق قریشی، پروفیسر عبد الماجد وٹو، اطہر عزیز ایڈووکیٹ،عمران سید، دلاور زیدی، عاطف سرانی،سلطان محمود ملک،سید وسیم زیدی، اشرف ندیم سندھو ایڈووکیٹ، سلیم الرحمان میؤ،نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطابات میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت اور کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی سطح پر مظلوم اقوام خصوصاً فلسطین و غزہ کے حق میں ایک جرات مندانہ اور اصولی مؤقف اختیار کیا جس نے مزاحمت کے بیانیے کو تقویت دی وہ اتحاد امت کے داعی تھے عالم اسلام کو ان کی قیادت پر فخر ہے ان کی جرائتمندانہ قیادت نے عزت و آبرو والہ اسلامی چہرہ روشناس کرایا اور اپنی شہادت سے یہ پیغام دے کر گئے کہ اسلام پر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے لیکن اسلام کو کسی چیز پر قربان نہیں کیا جا سکتا آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ نے اسلام کی خاطر اپنا تمام خاندان قربان کر دیا مگر وقت کے یزید امریکا اور اسرائیل کی بیعت قبول نہ کی ان سے پہلے ان کے رفقائے کار شہید قاسم سلیمانی اسماعیل ہانیہ یحییٰ سنوار اور سید حسن نصر اللہ نے آزادی بہت المقدس کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مقررین نے ایران لبنان اور غزہ پر امریکی و اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری ظلم و بربریت انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے، جبکہ ایرانی عوام نے ان حالات میں جس جرات، استقامت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے وہ پوری دنیا کے لیے مثال ہے امریکہ اور اسرائیل نے جس طرح سے انسانی حقوق کی پامالی کی سکولوں عوامی مراکز اور ضروریات زندگی کے مراکز پر جس طرح بمبارمنٹ کی وہ ان صیہونیوں اور امریکیوں کی ہزیدیانہ حرکت ہے جس کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے خطاب کرنے والوں نے مزاحمتی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے حسن نصر اللہ، یحیی سنوار اسماعیل ہانیہ اور دیگر قائدین کی جدوجہد کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ان کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے۔مقررین نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہمیں حق و باطل کی پہچان اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہیں اور مطالبہ کیا کہ لبنان پر اسرائیلی دہشت گردی کو روکا جائے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مظلوم اقوام کی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی مقررین نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ میں ایک اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا ہے جو امتِ مسلمہ کی ترجمانی کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قیادت نے جس دانشمندی اور بصیرت سے اس عالمی جنگ کو رکوایا ہے وہ رہتی دنیا تک سنہری حروف سے لکھا جائے گا پاکستان اسلام کا قلعہ ہے انشاء اللہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی سے دنیا میں امن قائم ہو گاتقریب کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی،جمہوری اسلامی ایران کی کامیابی امریکہ و اسرائیل کی نابودی فلسطین و غزہ کی آزادی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔یہ پروگرام مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔