یومِ دستور 1973 پر خصوصی تحریر
یومِ دستور 1973 پر خصوصی تحریر
مٙلِک اٙرشد اِقبال بُھٹہ ‘ مُلتان
پاکستان کے پہلے منتخب ویثنری وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں
سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر طویک مشاورت کے بعد متفقہ طور پر بنایا گیا 1973 کا دستور قومی وحدت کی علامت ہے جس نے تمام تر سازشوں اور چیلنجز کے باوجود ریاستی تسلسل کو برقرار اور پاکستان کو متحد رکھا ہُوا ہے ۔ تمام تر اختلافات ‘ رنجشوں اور نفرتوں کے باوجود یہ واحد متفقہ قومی دستاویز ہے جس کی حفاظت کے لئے تمام سیاستدان و ادارے یک زبان ہیں ۔ یہ دستور حقیقت میں دو جسم ایک قالب کی بہترین مثال ہے ۔ آمروں نے اس میں بہت ساری نقب لگائیں اسے ختم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا ‘ بار بار صدارتی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ‘ کچھ سال قبل اسے ایک خودساختہ جمہوری حکومت کی چھتری تلے روندنے کی کوشش کی گئی مگر عوام نے اس مذموم کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ۔ دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے 1973 کے اس دستور میں دراصل نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰؐ کے منکرین کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی ضمانت موجود ہے جس کے باعث پاکستان کے پارلیمانی طرزِ حکومت کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ یہ اس دستور کی جگہ نیا صدارتی نظام لا کر قادیانیوں کو دوبارہ سے فعال و متحرک کیا جا سکے –
ہمارا خیال ہے جس طرح عرب سرزمین پر اسرائیلی اپنی دولت کی وجہ سے بربریت کا باعث ہیں بالکل اسی طرح قادیانی اپنے بے پناہ وسائل پاکستان کی سالمیت اور امن و خوشحالی کے خلاف استعمال کر کے اس مملکتِ خداداد کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایران پر حالیہ امریکی و اسرائیلی بربریت مسلط کرنے کو رکوانے کی کامیاب سعی کے نتیجے میں اقوامِ عالم میں ایک نئی شان نئی عزت عطا کی ہے ‘ دنیا پاکستان کے مثبت و موثر کردار کو سراہ رہی ہے جس پر ہر ذی شعور و محبِ وطن پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہے ۔
دستور کی پاسداری میں ہی ملکی سلامتی اور عوامی خوشحالی پنہاں ہے ۔ جئے پاکستان جئے بھٹو جئے عوام







































Visit Today : 218
Visit Yesterday : 577
This Month : 5468
This Year : 53304
Total Visit : 158292
Hits Today : 1724
Total Hits : 709723
Who's Online : 4



















