گلبرگ ہاؤسنگ اسکیم: انصاف کی تلاش میں بھٹکتے خواب
گلبرگ ہاؤسنگ اسکیم: انصاف کی تلاش میں بھٹکتے خواب
تحریر کلب عابد خان
03009635323
پانچ برس بیت گئے، سات ہزار متاثرین آج بھی در بدر ہیں، ان کے خواب مکان کے نہیں بلکہ تحفظ اور عزتِ نفس کے تھے، مگر وہ خواب ٹوٹ کر زمین پر بکھر گئے، نیب نے دو برس گزرنے کے باوجود اصغر علی گرمانی کے خلاف تحقیقات مکمل نہیں کیں، متاثرین کی یونین بار بار دہائی دیتی رہی، پریس کانفرنسیں ہوئیں، اخبارات میں خبریں چھپیں، مگر ریاستی ادارے خاموش ہیں، یہ خاموشی صرف متاثرین کے زخموں پر نمک نہیں چھڑکتی بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے، ہزاروں خاندان اپنی جمع پونجی سے محروم ہو کر کرائے کے مکانوں اور رشتہ داروں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ان کے بچے تعلیم سے محروم ہیں، ان کے بزرگ علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہے، اور ان کے نوجوان روزگار کے ساتھ ساتھ مکان کے خواب کی تلاش میں بھی تھک چکے ہیں، یہ کہانی صرف ملتان یا پنجاب کی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری کی ہے جو اپنی محنت کی کمائی کسی اسکیم میں لگاتا ہے اور پھر برسوں انصاف کے انتظار میں در بدر ہو جاتا ہے، اوورسیز پاکستانی بھی اس اسکیم کے متاثرین میں شامل ہیں، انہوں نے اپنی محنت کی کمائی، جو انہوں نے بیرونِ ملک دن رات مزدوری کر کے کمائی تھی، اس اسکیم میں لگائی، وہ وطن کی محبت میں اپنے شہر میں گھر بنانا چاہتے تھے، مگر آج وہ بھی نیب کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور جواب تک نہیں ملتا، ان کی درخواستیں فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہیں، نیب کا ادارہ بجائے متاثرین کی داد رسی کرے، ایسا دکھائی نہیں دیتا، بلکہ درخواستوں کا جواب تک نہیں دیا جا رہا، یہ رویہ اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے، وہی اوورسیز پاکستانی جو ملک کے لیے زرمبادلہ بھیجتے ہیں، معیشت کو سہارا دیتے ہیں، اور وطن کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں، مگر جب وہ خود متاثر ہوں تو ریاستی ادارے ان کی داد رسی نہیں کرتے، یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی خلاف ہے، نیب کی تاخیر نے متاثرین کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے، عدالتوں اور حکومتی وعدوں کے باوجود عملی ریلیف نہ ملنا عوامی اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے، ضبط شدہ جائیدادوں کو فوری نیلام کر کے متاثرین کو معاوضہ دینا چاہیے، تحقیقات کو وقت کی قید میں لانا چاہیے تاکہ انصاف برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں ملے، متاثرین کی یونین کو حکومتی سطح پر باضابطہ سنا جائے اور ان کے نمائندوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، یہ معاملہ صرف ایک اسکیم کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا ہے، اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ نہ دے سکے تو یہ صرف ایک اسکیم کا نقصان نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے، متاثرین کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انصاف صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ عمل سے قائم ہوتا ہے، نیب کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، تحقیقات مکمل کرے، اور متاثرین کو معاوضہ دلائے، ورنہ یہ اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو جائے گا، اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کو بحال کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ وہی ملک کے لیے سرمایہ لاتے ہیں، اگر وہ مایوس ہو گئے تو ملک کی معیشت بھی متاثر ہو گی، گلبرگ ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرین کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خواب صرف مکان کے نہیں بلکہ انصاف کے بھی ہوتے ہیں، اور جب انصاف نہ ملے تو خواب ٹوٹ جاتے ہیں، ریاست کو چاہیے کہ وہ ان خوابوں کو جوڑنے کی کوشش کرے، متاثرین کو ان کا حق دے، اور انصاف کو عمل میں بدل دے، کیونکہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا، اور انصاف کے بغیر کوئی خواب حقیقت نہیں بن سکتا، نیب کی خاموشی اور تاخیر نہ صرف متاثرین کے لیے اذیت ناک ہے بلکہ ادارے کی ساکھ کے لیے بھی خطرہ ہے، اگر نیب اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی احتساب اور انصاف کی فراہمی میں ناکام ہو جائے تو عوامی اعتماد کا بحران مزید بڑھ جائے گا، اور یہ بحران کسی ایک اسکیم تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، یہی وقت ہے کہ ریاست اور ادارے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، متاثرین کو ان کا حق دیں، اور انصاف کو عمل میں بدلیں تاکہ خواب حقیقت بن سکیں اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔








































Visit Today : 389
Visit Yesterday : 577
This Month : 5639
This Year : 53475
Total Visit : 158463
Hits Today : 2583
Total Hits : 710582
Who's Online : 6



















