کاغذی آگاہی، زمینی لوٹ مار: ذمہ دار کون؟
کاغذی آگاہی، زمینی لوٹ مار: ذمہ دار کون؟
تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323
ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے حالیہ دنوں غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں کی فہرست جاری کی گئی اور عوامی آگاہی کے لیے مختلف اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کیے گئے۔ بظاہر یہ ایک مثبت قدم دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس سوالات کی ایک طویل فہرست کھڑی کر دیتے ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ کاغذی آگاہی تو آج ہو رہی ہے، مگر زمینی لوٹ مار برسوں سے کیوں جاری رہی؟ اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟
Multan Development Authority کی جانب سے جاری کردہ فہرست نے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کی پرانی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی بھر کی کمائی، بچوں کے مستقبل اور بڑھاپے کے سہارا بننے والے خوابوں کو ان کالونیوں میں لگاتے رہے، آج خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے پاکستانیوں کی ہے جو روزگار کے لیے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور وطن میں ایک چھوٹا سا پلاٹ یا مکان خریدنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا۔
یہ سوال اب شدت اختیار کر چکا ہے کہ جب یہ غیر قانونی سکیمیں وجود میں آ رہی تھیں، جب ان کے دفاتر بن رہے تھے، سڑکیں اور گلیاں دکھا کر فائلیں بیچی جا رہی تھیں، تب متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ اگر آج اخبارات میں اشتہار دے کر عوام کو خبردار کیا جا سکتا ہے تو کل یہ کام کیوں نہ ہو سکا؟ کیا اداروں کی ذمہ داری صرف بعد ازاں فہرست جاری کرنا ہے یا بروقت روک تھام بھی ان کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے؟
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن کالونیوں کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، ان میں سے کئی میں آج بھی خرید و فروخت جاری ہے۔ پلاٹس کے ریٹس بتائے جا رہے ہیں، نئی فائلیں فروخت ہو رہی ہیں اور سادہ لوح عوام بدستور جال میں پھنس رہی ہے۔ اگر کوئی سکیم غیر منظور شدہ ہے تو وہاں لین دین کس قانون کے تحت ہو رہا ہے؟ یہ سوال صرف کالونی مالکان سے نہیں بلکہ نگرانی کے ذمہ دار اداروں سے بھی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان غیر قانونی سکیموں کے مالکان نے صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ نظام کو بھی چیلنج کیا۔ انہوں نے اشتہارات دیے، سوشل میڈیا پر تشہیر کی، یہاں تک کہ بعض مقامات پر جعلی این او سی دکھا کر اعتماد حاصل کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان سب حرکات پر کبھی کسی نے پوچھ گچھ کی؟ اگر نہیں، تو یہ غفلت ہے، اور اگر ہاں مگر خاموشی اختیار کی گئی، تو یہ مجرمانہ چشم پوشی کے زمرے میں آتی ہے۔
اب جب لوٹ مار ہو چکی، فہرست سامنے آ گئی، تو متاثرہ عوام کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟ وہ لوگ جو قسطوں پر پلاٹ لیتے رہے، جنہوں نے بینک قرضے اٹھائے، یا بیرونِ ملک سے رقم بھیجی، وہ کہاں جائیں؟ کیا انہیں صرف یہ کہہ دیا جائے کہ “آپ نے خود غیر قانونی سکیم میں سرمایہ کاری کی”؟ اگر ادارے وقت پر آگاہی مہم چلاتے، واضح نشان دہی کرتے، تو شاید آج یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کاغذی آگاہی سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں میں فوری طور پر ہر قسم کی خرید و فروخت بند کی جائے، سب رجسٹرار دفاتر کو واضح اور تحریری احکامات دیے جائیں، اور ایسے کالونی مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جنہوں نے عوام کی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کیا۔
ساتھ ہی متاثرہ شہریوں، خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک مؤثر شکایتی نظام اور ہیلپ ڈیسک قائم کیا جانا چاہیے، جہاں انہیں صرف تاریخیں نہیں بلکہ حقیقی رہنمائی اور انصاف مل سکے۔ اگر ریاست واقعی عوام کے ساتھ کھڑی ہے تو اسے یہ ثابت بھی کرنا ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محض فہرستیں اور اشتہارات ضمیر کی تسلی تو ہو سکتے ہیں، انصاف کا نعم البدل نہیں۔ جب تک زمینی سطح پر لوٹ مار رکتی نہیں، جب تک ذمہ داروں کا تعین اور احتساب نہیں ہوتا، تب تک یہ سوال گونجتا رہے گا










































Visit Today : 547
Visit Yesterday : 579
This Month : 4160
This Year : 51996
Total Visit : 156984
Hits Today : 3409
Total Hits : 697628
Who's Online : 8




















