ملتان: مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کا ایک اہم اجلاس ضلعی صدر جعفر علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملتان کے صدر خالد محمود قریشی سمیت کفایت حسین، شیخ پرویز اختر، حاکم قریشی، ملک مزمل کھاکھی، رانا ارشاد، خواجہ مدثر، ندیم قریشی اور ذین علی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملتان میں پی ایچ اے کے ٹھیکیداروں کی جانب سے دکانداروں سے پبلسٹی ٹیکس کے نام پر وصولیوں کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خالد محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان فوری نوٹس لیں کہ پی ایچ اے کے بعض افسران اور ٹھیکیدار مبینہ ملی بھگت کے ذریعے تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں اور عام دکانوں پر لگے تعارفی بورڈز کو پبلسٹی ٹیکس کے زمرے میں ڈال کر بھاری رقوم کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دراصل پبلسٹی ٹیکس کے نام پر کھلی غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کے مترادف ہے جسے تاجر کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری متعدد بار تحریری طور پر ڈپٹی کمشنر ملتان کو اس صورتحال سے آگاہ کر چکی ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ان درخواستوں کو دوبارہ انہی پی ایچ اے افسران کے پاس بھجوا دیا جاتا ہے جن کے خلاف شکایات موجود ہیں۔ اس طرز عمل سے تاجروں میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ چوراہوں اور شاہراہوں پر نصب اشتہاری بورڈز یقیناً پبلسٹی ٹیکس کے زمرے میں آتے ہیں، لیکن اپنی ہی دکان یا دفتر کی عمارت پر لگایا گیا تعارفی بورڈ کسی صورت اشتہاری مہم کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف کاروبار کی شناخت کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا اس پر پبلسٹی ٹیکس عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی ایچ اے کے ٹھیکیداروں اور اہلکاروں نے تاجروں کو ہراساں کرنے اور جبری وصولیوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو کسی بھی وقت شہر کی کسی بھی مارکیٹ میں تاجروں اور ٹھیکیداروں کے کارندوں کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے رہنماؤں نے کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان کو سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے، پی ایچ اے کے افسران اور ٹھیکیداروں کو لگام دی جائے اور تاجروں کو بلاجواز نوٹس جاری کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، بصورت دیگر تاجر برادری احتجاج اور سخت ردعمل کا حق محفوظ رکھتی ہے