کروڑوں کا ریونیو، زہریلا پانی اور خاموش ادارے
کروڑوں کا ریونیو، زہریلا پانی اور خاموش ادارے
تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323
ملتان ایک تاریخی، تہذیبی اور گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں لوگ روزگار، تعلیم اور علاج کی غرض سے بستے ہیں۔ مگر افسوس کہ اسی شہر میں زندگی کی بنیادی ترین ضرورت—پینے کا صاف پانی—اب سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ شہر بھر کے گھروں میں نل کھولتے ہی جو پانی آتا ہے، وہ پیاس تو بجھا دیتا ہے مگر صحت چھین لیتا ہے۔ اس پانی میں آرسینک کی موجودگی، ٹی ڈی ایس (TDS) کی خطرناک حدیں اور بدبو دار ذائقہ اب کسی راز کی بات نہیں رہی۔ اس کے باوجود، ذمہ دار ادارے خاموش ہیں اور شہری مجبور۔
ہر ماہ اربوں نہیں تو کروڑوں روپے واسا ملتان بلنگ کے ذریعے اکٹھے کر رہا ہے۔ بل باقاعدگی سے گھروں میں پہنچتے ہیں، عدم ادائیگی پر وارننگ آتی ہے، کنکشن منقطع کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، مگر یہ پوچھنے والا کوئی نہیں کہ جس پانی کے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، کیا وہ انسانی استعمال کے قابل بھی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ بل کس بات کے؟
ملتان کے کئی علاقوں میں زمینی پانی میں آرسینک کی مقدار عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ آرسینک کوئی معمولی آلودگی نہیں؛ یہ ایک خاموش قاتل ہے۔ طویل عرصے تک اس کے استعمال سے جلدی امراض، معدے کی بیماریاں، جگر اور گردوں کے مسائل، حتیٰ کہ کینسر جیسے مہلک عوارض جنم لیتے ہیں۔ بچے، بزرگ اور خواتین خاص طور پر اس کا آسان شکار بنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے شہریوں کو زہر پلا کر ترقی کے دعوے کر سکتی ہے؟
ٹی ڈی ایس لیول کی بات کی جائے تو شہر کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والی رپورٹس تشویشناک ہیں۔ حد سے زیادہ نمکیات، بھاری دھاتیں اور آلودہ عناصر پانی کے ذائقے کو بگاڑتے ہی نہیں، انسانی جسم کے نظام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ گردے کی پتھری، ہائی بلڈ پریشر اور ہاضمے کے مسائل اس کے براہِ راست نتائج ہیں۔ مگر کیا کبھی شہریوں کو یہ بتایا گیا کہ ان کے علاقے کا پانی کس معیار پر پورا اترتا ہے؟ کیا کبھی ٹیسٹ رپورٹس عوام کے سامنے رکھی گئیں؟
حیرت اس بات پر ہے کہ پانی کی سپلائی کے لیے بچھائی گئی لائنیں کئی دہائیوں پرانی ہیں۔ جگہ جگہ سے لیکیج، سیوریج لائنوں کے ساتھ پانی کی پائپ لائنیں، اور ٹوٹے پھوٹے جوائنٹس—یہ سب آلودگی کو دعوت دیتے ہیں۔ اگر کہیں فلٹریشن پلانٹس لگے بھی ہیں تو یا تو بند پڑے ہیں، یا ان کی دیکھ بھال کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کہاں جاتا ہے؟ مرمت، اپ گریڈیشن اور جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس کب لگیں گے؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پانی کے معیار پر سوال اٹھانے والا شہری اکثر دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک جاتا ہے۔ شکایت درج کرواؤ، درخواست دو، فائل آگے بڑھاؤ—مگر نتیجہ صفر۔ جواب دہی کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ نہ تو کسی افسر کو بلا کر پوچھا جاتا ہے اور نہ ہی کسی رپورٹ پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ اگر بل وصولی میں سختی ہے تو معیار کی فراہمی میں نرمی کیوں؟
دنیا کے مہذب شہروں میں پانی کی فراہمی ایک سروس لیول ایگریمنٹ کے تحت ہوتی ہے—معیار، مقدار اور تسلسل تینوں کی ضمانت دی جاتی ہے۔ وہاں پانی کی جانچ کی رپورٹس ویب سائٹس پر اپ لوڈ ہوتی ہیں، شہریوں کو آگاہ کیا جاتا ہے، اور خلاف ورزی پر جرمانے لگتے ہیں۔ ملتان میں ایسا کیوں نہیں؟ کیا یہاں کے شہری دوسرے درجے کے شہری ہیں؟
یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں، انصاف کا بھی ہے۔ جب عوام اپنی محنت کی کمائی سے بل ادا کرتے ہیں تو انہیں محفوظ پانی ملنا ان کا حق ہے، احسان نہیں۔ اگر ادارہ یہ حق دینے میں ناکام ہے تو کم از کم سچ بتائے، متبادل فراہم کرے، یا بلوں میں ریلیف دے۔ مگر یہاں تو معاملہ الٹ ہے—نہ معیار، نہ شفافیت، نہ جواب دہی۔
حل موجود ہیں، مگر نیت درکار ہے۔ سب سے پہلے شہر بھر کے پانی کی جامع اور آزادانہ جانچ کرائی جائے اور رپورٹس عوامی کی جائیں۔ آرسینک اور بلند TDS والے علاقوں میں فوری طور پر آرسینک ریموول پلانٹس اور جدید فلٹریشن سسٹمز نصب کیے جائیں۔ پرانی پائپ لائنوں کی مرحلہ وار تبدیلی، سیوریج اور واٹر لائنز کی علیحدگی، اور مستقل مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔ سب سے بڑھ کر، ایک مضبوط شکایتی نظام ہو جہاں شہری کی آواز سنی جائے اور اس پر عمل ہو۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم خاموش رہیں گے؟ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہی زہریلا ورثہ دیں گے؟ شہریوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور منتخب نمائندوں کو مل کر اس مسئلے کو ترجیح بنانا ہوگی۔ پانی زندگی ہے—اور زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا۔
اگر آج بھی آنکھیں بند رکھیں تو کل ہمارے پاس پینے کو پانی ہوگا، مگر جینے کو صحت نہیں۔






































Visit Today : 217
Visit Yesterday : 533
This Month : 6510
This Year : 54346
Total Visit : 159334
Hits Today : 886
Total Hits : 716831
Who's Online : 1





















