امن کی بساط اور شاطر کھلاڑی
امن کی بساط اور شاطر کھلاڑی
تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت
کالم نگار و تجزیہ نگار 03027991718
دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی تھیں، جہاں سیز فائر اور علاقائی استحکام کے لیے “اسلام آباد ٹاکس” ایک فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ سفارتی راہداریوں میں یہ امید دمک رہی تھی کہ شاید اب بارود کی بو کم ہو جائے، مگر عین اسی وقت اسرائیل نے لبنان پر میزائلوں کی برسات کر کے یہ واضح کر دیا کہ وہ امن کی کسی بھی بساط کو الٹنے کی پوری صلاحیت اور نیت رکھتا ہے۔ یہ حملہ محض فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ ان تمام کوششوں کے منہ پر طمانچہ تھا جو میز پر بیٹھ کر کی جا رہی تھیں۔
ابتدائی طور پر امریکی صدر کا ردِعمل غیر معمولی طور پر سخت تھا۔ انہوں نے ان حملوں کو “ناقابلِ قبول” اور “تزویری غلطی” قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ شاید اب اسرائیل کو لگام ڈالی جائے گی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اسرائیل “گریٹر اسرائیل” کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی طرف قدم بڑھاتا ہے، عالمی طاقتوں کی ناراضگی محض ایک عارضی ڈرامہ ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ اپنے بیان سے “بیک فٹ” پر چلا گیا اور ناراضگی کی جگہ “دفاع کے حق” والے پرانے راگ نے لے لی۔
نیتن یاہو، جو عالمی دباؤ اور پاکستانی و ایرانی وزراء کے تندوتیز بیانات کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لیے دفاعی پوزیشن پر گئے تھے، اب دوبارہ جارحانہ موڈ میں ہیں۔ انہوں نے اپنی کابینہ کو لبنان سے مذاکرات کی ہدایت تو دی، مگر یہ مذاکرات امن کے لیے نہیں بلکہ اپنی شرائط منوانے کے لیے ایک سیاسی ڈھال ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ “یو ٹرن” دراصل بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے تاکہ وہ ثابت کر سکیں کہ وہ مذاکرات کے خلاف نہیں، حالانکہ ان کے ہاتھ اب بھی لبنان اور فلسطین کے لہو سے رنگے ہوئے ہیں۔
اس پوری صورتحال میں جمائمہ گولڈ سمتھ جیسی شخصیات کا یہ بیان کہ “اسرائیل کو اپنی سلامتی کا حق ہے”، ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب لبنان کی خود مختاری کو پامال کیا جا رہا تھا۔ ایسی باتوں سے نہ صرف اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو اخلاقی جواز ملتا ہے، بلکہ یہ “گریٹر اسرائیل” کے اس خواب کی آبیاری بھی کرتا ہے جس کی سرحدیں دوسروں کی زمینوں پر قبضے سے بنتی ہیں۔ یہ سوچ براہِ راست پاکستان کے اصولی موقف اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے خلاف ایک منظم بیانیہ معلوم ہوتی ہے۔
عالمی سیاست اس وقت منافقت کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد میں امن کی شمع جلائی جاتی ہے، تو دوسری طرف واشنگٹن سے لے کر لندن تک پھیلے ہوئے اسرائیل کے ہمدرد اس شمع کو بجھانے کے لیے “سلامتی” کے پرفریب نعرے استعمال کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کا مذاکرات کا شوشہ چھوڑنا اور امریکہ کا اپنے سخت الفاظ سے پیچھے ہٹ جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی بساط پر مہرے پہلے سے طے شدہ ہیں۔ پاکستان اور ایران کا سخت موقف اپنی جگہ درست ہے، مگر جب تک عالمی برادری “دفاع کے حق” اور “جارحیت” کے درمیان لکیر واضح نہیں کرے گی، اسلام آباد ٹاکس جیسی کوششیں اسرائیل کے میزائلوں کا نشانہ بنتی رہیں گی۔ جمائمہ گولڈ سمتھ جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے بیانات دراصل اس عالمی ایجنڈے کا حصہ ہیں جو اسرائیل کی ہر زیادتی کو “بقا کی جنگ” بنا کر پیش کرتا ہے، تاکہ دنیا کی توجہ اصل مسئلے یعنی قبضے اور انسانی حقوق کی پامالی سے ہٹائی جا سکے۔






































Visit Today : 459
Visit Yesterday : 510
This Month : 6219
This Year : 54055
Total Visit : 159043
Hits Today : 2788
Total Hits : 714779
Who's Online : 7





















