تاجر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، مگر دباؤ اور بے یقینی کا شکار طبقہ

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان میں تاجر برادری ہمیشہ سے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی رہی ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو نہ صرف اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے بلکہ روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرتا ہے اور ٹیکسوں کی صورت میں ریاستی خزانے کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج یہی طبقہ سب سے زیادہ دباؤ، غیر یقینی اور بے چینی کا شکار نظر آتا ہے۔
اصل مسئلہ قوانین کا ہونا نہیں ہے، بلکہ ان کے نفاذ میں توازن، مشاورت اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا ہے۔ تاجر طبقہ اس وقت ایک ایسے ماحول میں کام کر رہا ہے جہاں کاروبار چلانا پہلے ہی مشکل ہو چکا ہے۔ مہنگائی اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے، بجلی کے بل ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں، دکانوں کے کرائے مسلسل بڑھ رہے ہیں، ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ بھی دن بدن زیادہ ہو رہا ہے، اور اس سب کے ساتھ سیکیورٹی اور دیگر اخراجات بھی کاروباری طبقے کو دبا رہے ہیں۔
اس صورتحال میں اگر کوئی تاجر اپنے کاروبار کو کسی طرح جاری رکھتا بھی ہے تو اسے ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں اچانک کوئی انسپکشن نہ آ جائے، کوئی نوٹس نہ تھما دیا جائے یا دکان کو سیل نہ کر دیا جائے۔ یہ ایک ایسا ماحول ہے جس میں کاروباری اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے اور سرمایہ کاری کی رفتار بھی سست پڑ رہی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں اور پھر انہیں بغیر کسی مشاورت کے تاجروں پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔ تاجر برادری کو نہ تو پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے زمینی مسائل کو مکمل طور پر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پالیسی اور حقیقت کے درمیان ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا ہے۔
سرکاری نرخ نامے کا مسئلہ بھی اکثر تنازع کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اگر کسی تاجر سے معمولی فرق بھی ہو جائے تو فوری طور پر جرمانے، دکانوں کی سیلنگ یا سخت کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔ اس رویے سے تاجر طبقہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے اور اس کے اندر یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ منصفانہ سلوک نہیں کیا جا رہا۔
دوسری طرف اگر ہم مارکیٹوں میں موجود غیر منظم کاروباری سرگرمیوں کو دیکھیں تو وہاں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ ریڑھی بان، غیر رسمی فروشندگان اور تجاوزات کرنے والے افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سے نہ تو ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی ان پر وہی سخت قوانین لاگو ہوتے ہیں جو ایک رجسٹرڈ دکاندار پر لاگو کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ایک غیر مساوی نظام جنم لے رہا ہے جس میں قانون کا بوجھ زیادہ تر منظم تاجروں پر ہی پڑ رہا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف ناانصافی کو جنم دے رہی ہے بلکہ معاشی عدم توازن کو بھی بڑھا رہی ہے۔ جب ایک طبقہ باقاعدگی سے ٹیکس بھی دے، اخراجات بھی برداشت کرے اور پھر بھی مسلسل دباؤ میں رہے، جبکہ دوسرا طبقہ نسبتاً آزاد رہے تو نظام پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔
تاجر برادری کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ انہیں مجرم نہیں بلکہ پارٹنر سمجھا جائے۔ قانون کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ اصلاح اور رہنمائی بھی ہونا چاہیے۔ اگر کسی مارکیٹ میں کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل بات چیت، مشاورت اور تدریجی اصلاحات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ فوری جرمانوں اور سیلنگ کے ذریعے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں اور پالیسی سازی کے عمل میں انہیں شریک کریں۔ جب تک زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے نہیں کیے جائیں گے، اس وقت تک مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھتے رہیں گے۔ کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے لیے بجلی، ٹیکس، کرایوں اور ریگولیشنز میں توازن پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ غیر منظم شعبے کو بھی باقاعدہ نظام میں لایا جائے تاکہ سب پر ایک جیسے اصول لاگو ہوں۔ جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا تو ہی معاشرے میں انصاف کا تاثر مضبوط ہوگا۔
آخر میں یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں چلتی بلکہ اعتماد، استحکام اور سہولت سے چلتی ہے۔ اگر تاجر غیر محفوظ ہو جائے گا تو معیشت بھی غیر مستحکم ہو جائے گی۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ تاجر کو دبانے کے بجائے اس کا سہارا بنایا جائے، اس پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اسے آسانیاں فراہم کی جائیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ مضبوط تاجر ہی مضبوط معیشت کی ضمانت ہے۔