اسلام آباد ٹاکس اور پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار

تحریر:ایس پیرزادہ

اسلام آباد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں ممکنہ “اسلام آباد ٹاکس” نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ عالمی سفارتکاری کے ایک نئے باب کا آغاز سمجھا جا رہا ہے پاکستان جو ہمیشہ سے جغرافیائی لحاظ سے ایک حساس خطے میں واقع ہے آج ایک ایسے مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں اس کا کردار محض تماشائی کا نہیں بلکہ ثالث اور رابطہ کار کا بنتا جا رہا ہے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ تاریخی مذہبی اور تہذیبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے عوام نے بھی غیر معمولی جذباتی وابستگی کا اظہار کیا مختلف طبقات کی جانب سے نہ صرف ایران کے ساتھ یکجہتی دیکھنے میں آئی بلکہ خطے میں امن کے لیے اجتماعی دعائیں بھی کی گئیں یہ رویہ اس بات کا مظہر ہے کہ اس خطے کے لوگ جنگ کے نہیں بلکہ امن کے خواہاں ہیں دوسری جانب امریکہ کی اعلیٰ قیادت کا پاکستان آنا اور ممکنہ مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں بھی اب خطے کے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کو اہمیت دینے لگی ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس عمل کو ایک سنجیدہ سفارتی کوشش کے طور پر دیکھ رہا ہے، جہاں اعتماد سازی اور باہمی مفاہمت بنیادی حیثیت رکھتی ہے یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار صرف بیانات پر نہیں بلکہ فریقین کی نیت، سنجیدگی اور عملی اقدامات پر ہوتا ہے۔ خطے میں موجود پیچیدہ صورتحال میں یہ بات مزید اہم ہو جاتی ہے کہ جذبات سے زیادہ حقیقت پسندی کو ترجیح دی جائےپاکستان کے لیے یہ لمحہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر اسلام آباد واقعی ایک مؤثر اور غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ میں بھی اضافہ کرے گا آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا آج جنگوں سے زیادہ مذاکرات کی محتاج ہے اور اگر “اسلام آباد ٹاکس” اس سمت میں ایک بھی مثبت قدم بڑھا دیتے ہیں تو یہ خطے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اور بصیرت افروز حکمتِ عملی نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا پاکستان کا یہ کردار نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے
جس پر ہر پاکستانی خوشی سے سرشار ہے
پاک فوج ژندہ باد
پاکستان پائندہ باد