شریف جوئیہ۔۔۔۔ ادب ، صحافت کا گوہر نایاب

میاں نعیم ارشد
مثبت سوچ، تحمل مزاج، انتہائی بردبار اور سادہ طبیعت کے حامل، شاندار روایات کے امین، طفل کوکب سے صحافت کا سفر شروع کرنے والے عامل صحافی محمد شریف جوئیہ آج ابتک نیوز ملتان کے بیورو چیف ہیں۔ ان کی زندگی کا یہ سفر جہدِ مسلسل سے عبارت ہے جو کسی عبادت سے کم نہیں۔ بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ پوشیدہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ گوہر نایاب اپنی صلاحیتوں، ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر اپنی منزل کی جانب گامزن رہا۔دورانِ تعلیم ہی وہ علمی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ انہی ایام میں ان کی ملاقات دیپ آرگنائزیشن کے چیف آرگنائزر، معروف سماجی رہنما محترم سبطین رضا لودھی سے ہوئی۔ سبطین رضا لودھی ایک بندہ شناس اور جہاندیدہ انسان ہیں۔ دورانِ گفتگو ہی انہوں نے محمد شریف جوئیہ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں اپنی تنظیم دیپ آرگنائزیشن میں کام کرنے کی پیشکش کی، جسے شریف جوئیہ نے قبول کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد خاکسار بھی اس تنظیم کا حصہ بن گیا۔
محمد شریف جوئیہ ایک طویل عرصے تک محترم سبطین رضا لودھی کی قیادت و سرپرستی میں سماجی و فلاحی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ دیگر تنظیمی امور کے ساتھ ساتھ خبر بنانے اور اخبارات کو پریس ریلیز جاری کرنے کی ذمہ داری بھی شریف جوئیہ اور خاکسار کے ذمے رہی۔ خبر بنانے کا فن بھی ہم دونوں نے سبطین رضا لودھی صاحب سے سیکھا۔ شریف جوئیہ نے اپنے کام اور معیار کو ہمیشہ اہمیت دی۔ ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ انہیں ایک کامیاب انسان بنانے میں بڑا معاون ثابت ہوا۔
سماجی میدان میں اپنی محنت، وقار اور قابلیت کی بدولت ترقی کی منازل طے کرنے والے شریف جوئیہ کا شعبۂ صحافت میں آغاز بھی شاندار رہا۔ انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز 1995 میں بچوں کے لیے شائع ہونے والے رسالے “ طفل کوکب “ سے کیا، جہاں انہیں قلم کی ذمہ داری اور الفاظ کی طاقت کو سمجھنے کا موقع ملا۔ یہی شوق اور لگن انہیں 2008 میں الیکٹرانک میڈیا تک لے آئی۔اسی دوران انہوں نے باقاعدہ طور پر دنیا نیوز کے ساتھ بطور پائنیر ٹیم ممبر شمولیت اختیار کی۔ دنیا نیوز لاہور کی جانب سے انہیں تین ماہ کی باقاعدہ اور جامع تربیت دی گئی، جس میں نیوز روم کے مختلف شعبہ جات میں عملی کام بھی شامل تھا۔ 2008 سے 2011 تک انہوں نے بطور رپورٹر اپنی خدمات سرانجام دیں اور ملکی سیاست، عوامی مسائل اور حساس حالات کی کوریج کی۔
اسی دوران محمد شریف جوئیہ کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں، جن میں 2010 کے تباہ کن سیلاب کی کوریج، ملتان میں اہم مقام پر بم دھماکہ، میاں چنوں بم دھماکہ اور ڈیرہ غازی خان خودکش حملہ شامل ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ نے انہیں مشکل ترین حالات میں کام کرنے، درست ادارتی فیصلے کرنے اور دباؤ میں بھی سچ تک پہنچنے کی عملی تربیت فراہم کی، جو ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ثابت ہوئی۔شریف جوئیہ کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، محنت و لگن اور اعلیٰ کارکردگی کے اعتراف میں انہیں دنیا نیوز ملتان کا بیورو انچارج مقرر کر دیا گیا۔ یہاں انہوں نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خدمات احسن طریقے سے سرانجام دیں اور ادارے کو کبھی کوئی گلہ شکوہ کا موقع نہیں دیا۔2013 میں انہوں نے اب تک نیوز چینل جوائن کیا، جہاں آج وہ بطور بیورو چیف ملتان اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بطور بیورو چیف ان کی ذمہ داریوں میں ادارتی ہم آہنگی، فیلڈ آپریشنز کی نگرانی، اسائنمنٹ پلاننگ، ٹیم مینجمنٹ اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ خبریں درست، غیر جانبدار اور عوامی مفاد کے مطابق ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیم لیڈرشپ، افرادی قوت کی تربیت اور اخلاقی، ذمہ دار اور باوقار صحافت کے فروغ کو یقینی بنانا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔
ان تمام ذمہ داریوں کو شریف جوئیہ نہایت احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں بلکہ سچ بولنے، عوام کی آواز بننے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ ہے۔ شریف جوئیہ صحافت میں شرافت کا ایک بڑا اور معتبر حوالہ ہیں۔ وہ محنت پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیشہ اچھا، منفرد اور یونیک کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ان کی زندگی حدِ تعصب اور تنگ نظری سے ہمیشہ پاک رہی ہے۔ وہ مثبت سوچ کے حامل ہیں اور عزت، احترام اور پیار بھرے رشتوں کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں۔ وہ سب کے دوست ہیں اور بلا امتیاز ہر ایک کو عزت دیتے ہیں۔ اپنے کام کے معیار پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ ملتان پریس کلب کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی شریف جوئیہ نے صحافی برادری کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ گزشتہ روز پیارے دوست بیورو چیف ابتک نیوز چینل شریف جوئیہ نے نوجوان رپورٹر نعمان بھٹہ اور کیمرہ مین آصف اقبال کے ہمراہ میرے غریب خانہ پر تشریف لا کر مجھے عزت بخشی اور پھولوں کے گلدستہ کے ساتھ اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ۔پرانی یادوں اور حالات حاضرہ پر گفت وشنید کے بعد یہ پیار بھری ملاقات اختتام پذیر ہوئی ۔
میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں ہمیشہ کامیابیوں اور کامرانیوں سے سرفراز فرمائے، آمین