ملتان پریس کلب 2026-27 ذمہ دار تبدیلی اور اتحاد کی سمت
ملتان پریس کلب 2026-27 ذمہ دار تبدیلی اور اتحاد کی سمت
تحریر:ایس پیرزادہ
فنانس سیکرٹری میڈیا اونرز سوسائٹی (MOS)
اداروں کی زندگی میں کچھ لمحے محض انتخابی عمل نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا رخ موڑنے والے ادوار ثابت ہوتے ہیں ملتان پریس کلب کے انتخابات 2026-27 بھی ایک
ایسا ہی مرحلہ ہیں تقریباً بیس برس بعد قیادت میں آنے والی تبدیلی نے یہ ثابت کیا ہے کہ صحافتی برادری میں شعور زندہ ہے اور جمہوری عمل کی حرمت کو سمجھا جاتا ہے
یہ انتخاب کسی ایک گروپ کی برتری کا اعلان نہیں بلکہ اجتماعی بصیرت کی جیت ہے صدر کے منصب پر شکیل انجم کا انتخاب اس اعتماد کی علامت ہے جو اراکین نے ان کی قیادت پر کیا ان کے ساتھ سینیئر نائب صدر خالد چوہدری نائب صدر حافظ سرفراز انصاری اور جنرل سیکرٹری مظہر خان کی شمولیت ایک متوازن ٹیم کی صورت سامنے آئی ہے سینئر جوائنٹ سیکرٹری نعمان خان بابر اور جوائنٹ سیکرٹری فرقان بھٹی کی موجودگی انتظامی ہم آہنگی کو مضبوط کرے گی جبکہ فنانس سیکرٹری عبدالرؤف مان پر مالی نظم و ضبط کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے
مجلسِ عاملہ میں منتخب ہونے والے تمام اراکین جن میں ندیم حیدر اعجاز خان ترین نثار اعوان مظہر جاوید رفیق قریشی دانیال گھمن ممتاز نیازی نوید شاہ طارق اسماعیل سلیمان قریشی محبوب ملک تنویر گیلانی ناصر زیدی اور وسیم خان بابر شامل ہیں دراصل اس ادارے کی اجتماعی دانش کے امین ہیں ان سب کی شمولیت اس امر کی عکاس ہے کہ پریس کلب اب ایک وسیع تر نمائندگی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے
انتخابات میں مقابلہ فطری امر ہے جو کامیاب ہوئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اور جو کامیاب نہ ہو سکے وہ بھی اسی جمہوری روایت کا قابلِ احترام حصہ ہیں اصل کامیابی یہ ہے کہ عمل مکمل ہوا اور ادارہ آگے بڑھا
میں بحیثیت فنانس سیکرٹری میڈیا اونرز سوسائٹی (MOS) یہ سمجھتی ہوں کہ کسی بھی ادارے کی مضبوطی شفافیت دیانت اور نظم و ضبط میں مضمر ہوتی ہے مالی معاملات کی درستگی صرف حساب کتاب نہیں بلکہ اعتماد سازی کا ذریعہ ہوتی ہے یہی اصول پریس کلب سمیت ہر صحافتی فورم پر لاگو ہوتے ہیں جب وسائل امانت سمجھ کر استعمال ہوں اور فیصلے اجتماعی مشاورت سے ہوں تو ادارے مستحکم ہوتے ہیں
آج میڈیا کو تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا معاشی دباؤ اور پیشہ ورانہ چیلنجز کا سامنا ہے ایسے میں ضروری ہے کہ قیادت باہمی احترام اتحاد اور ادارہ جاتی وقار کو مقدم رکھے اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر اسے ذاتی تقسیم میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے
یہ نئی ٹیم اگر خدمت شفافیت اور باہمی اعتماد کو اپنی بنیاد بنائے تو ملتان پریس کلب ایک بار پھر صحافتی وقار اور پیشہ ورانہ استحکام کی علامت بن سکتا ہے دعا ہے کہ یہ قیادت اختلاف کو ہم آہنگی میں مقابلے کو تعاون میں اور تبدیلی کو استحکام میں بدل دے
یہ کامیابی چند افراد کی نہیں بلکہ پوری صحافتی برادری کی ہے اب اصل امتحان کارکردگی کا ہے اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو عہدوں کو اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھ کر نبھاتے ہیں








































Visit Today : 388
Visit Yesterday : 577
This Month : 5638
This Year : 53474
Total Visit : 158462
Hits Today : 2575
Total Hits : 710574
Who's Online : 5



















