ملتان:  روحانی پیشوا فخرالعلماء، پیر طریقت حضرت پیر سید الطاف حسین شاہ گیلانیؒ کے سجادہ نشین صاحبزادہ سید فیض الحسن گیلانی نے کہا ہے کہ۔اولیاء کرام کے آستانے امن و امان کے آشیانے ہیں۔ اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ والد محترم علیہ رحمۃ نے اپنی ساری زندگی لوگوں کی اصلاح میں بسر کی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز روحانی پیشوا، عالم باعمل حضرت مخدوم سید الطاف حسین شاہ گیلانیؒ کے 26ویں سالانہ دو روزہ عرس کی.اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین پیر ڈاکٹر محمدارشد نقیبی نے کہا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات محبت، رواداری اور انسانیت کے فروغ کا پیغام دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرس کی محافل ہمیں اپنے باطن کی اصلاح اور معاشرے میں خیر و بھلائی پھیلانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بزرگانِ دین کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔مناظر اسلام مفتی عبدالحمید چشتی نے اپنے خطاب میں تصوف کی روحانی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اولیاء اللہ نے ہمیشہ امن، صبر اور اتحاد کا درس دیا۔ آج کے دور میں ہمیں نفرت اور تقسیم سے بچتے ہوئے بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے حاضرین کو دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین بھی کی۔ مخدوم زادہ سید ایاز الحسن گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عرس کی تقریبات قومی و مذہبی ہم آہنگی کا مظہر ہیں۔اس طرح کے اجتماعات نہ صرف روحانی سکون کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرتی روابط کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ عرس کی تقریبات میں سماجی۔سیاسی مذہبی رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جن میں حاجی جاوید اختر انصاری سید محمد ثقلین بخاری۔ملک نذر محمد بھٹی، شیخ عمران ارشد، قاری امان اللہ مہروی،مفتی محمد کاشف فریدی،علامہ محمد رمضان چشتی،علامہ قاضی بشیر احمد گولڑوی،علامہ ڈاکٹر محمد ارشد علی بلوچ۔قاری اللہ داد سعیدی، علامہ فیض رسول رضوی۔محمد محسن۔رانا خالد جاوید۔ملک محمد خالد۔محسن سعیدی۔سید وجاہت گیلانی۔سید فیاض حسین گیلانی۔سید افتخار الحسن گیلانی۔سید ٍغلام مصطفی گیلانی۔سید مدثر گیلانی۔ملک نذر محمد بھٹی۔سید قیصر عباس گیلانی، ملک اللہ دتہ تھہیم۔سید نزیر شاہ بخاری۔قاری عبدلجبار۔حافظ عثمان۔قاری عزیز الرحمن۔شیخ عبدالحمید۔خلیفہ امتیاز۔خلیفہ محمد امیر۔محمداصغر قادری۔سمیت سینکڑوں مریدین نے شرکت کی