ملتان پریس کلب: آڈٹ سے خوف کیوں؟

تحریر: زین العابدین عابد
(زین خان ملغانی)

ملتان پریس کلب کے انتخابات آتے ہیں تو وعدوں کی بہار آ جاتی ہے، اور جاتے ہیں تو یادداشت پر خزاں اتر آتی ہے۔ ہر سال صحافی برادری کو بحران کے نام پر عارضی ریلیف کی گولی دی جاتی ہے، مگر اصل مرض، ادارہ جاتی شفافیت کی کمی جوں کا توں رہتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پلاٹ ملے یا نہ ملے؛ سوال یہ ہے کہ احتساب ملے گا یا نہیں؟ یہ روایت بن چکی ہے کہ انتخابی دنوں میں بحران کا شور بلند ہوتا ہے، اور انتخابی نتائج کے بعد خاموشی کا کمبل اوڑھ لیا جاتا ہے۔ مگر اس بار فضا بدلی ہوئی ہے۔ صحافی عہد کر چکے ہیں کہ انتخابی نعرے نہیں، انتخابی وعدوں کی جانچ ہوگی۔ اور جانچ کا پہلا زینہ ہے۔۔۔آڈٹ۔
میرے بلکہ ہر ایماندار اور پروفیشنلز صحافی کے نزدیک آڈٹ کوئی دشمنی نہیں، دیانتداری کی سند ہے۔ اگر ریکارڈ شفاف ہے تو آڈٹ عزت میں اضافہ کرے گا؛ اگر نہیں، تو سچ سامنے آئے گا۔ پھر سوال اٹھتا ہے! ملتان پریس کلب کے آڈٹ سے گریز کیوں؟ ریکارڈ کی پڑتال جرم نہیں، تو پیش قدمی کیوں نہیں؟ کیا رکاوٹ ہے کہ سابق یا موجودہ عہدیداران خود کو احتساب کے لیے پیش کریں اور ایک آزاد، معتبر آڈٹ کرائیں؟
ادارے شخصیات سے بڑے ہوتے ہیں۔ کرسی عارضی ہے، ساکھ دائمی۔ اگر پریس کلب صحافت کی حرمت کا نگہبان ہے تو اسے اپنے اندر بھی وہی معیار اپنانا ہوگا جو وہ دوسروں سے مطالبہ کرتا ہے۔ شفافیت کا تقاضا ہے کہ آمدن و اخراجات، فنڈز، فلاحی اسکیمیں، پلاٹس اور مراعات سب کچھ کھلی کتاب ہو۔ مبہم اعداد و شمار اعتماد کو کھا جاتے ہیں؛ شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے۔ یہ وقت وقتی فائدوں کے بجائے اصولی فیصلوں کا ہے۔ صحافی برادری کو چاہیے کہ ووٹ صرف چہرے کو نہیں، منشور کو دے؛ نعرے کو نہیں، نظام کو دے۔ انتخاب کے فوراً بعد ایک خودمختار آڈٹ کمیٹی تشکیل دی جائے، مستند آڈیٹر مقرر ہو، اور رپورٹ ارکان کے سامنے پیش کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو بحران سے نجات اور ادارے کی بحالی کی طرف لے جاتا ہے۔
آج کا سوال سادہ ہے مگر فیصلہ کن، کیا ہم اپنے ہی ادارے میں وہ شفافیت نافذ کرنے کو تیار ہیں جس کا مطالبہ ہم معاشرے سے کرتے ہیں؟ اگر جواب ہاں ہے، تو آڈٹ سے آغاز کیجئے۔ کیونکہ احتساب سے بھاگنے والا بیانیہ نہیں بچاتا صرف سچ بچاتا ہے۔
کسی بھی پریس کلب کی ساکھ نعروں سے نہیں، شفافیت سے بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بڑے صحافتی مراکز مثلاً لاہور پریس کلب اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد اپنے مالی معاملات کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور آڈٹ رپورٹ ارکان کے سامنے پیش کرنے کی روایت رکھتے ہیں، جس کا ذکر ان کے سالانہ اجلاسوں اور سرکاری دستاویزات میں بھی ملتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس اصول کی عملی مثال ہے کہ صحافت کا ادارہ اگر دوسروں سے احتساب کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اپنے گھر سے آغاز کرنا چاہیے۔ لہٰذا ملتان پریس کلب کا آڈٹ بھی کسی بند کمرے کی کارروائی نہ رہے بلکہ باقاعدہ آڈٹ کروا کر رپورٹ ارکان اور عوام کے سامنے پیش کی جائے، تاکہ اعتماد بحال ہو اور قیادت کی دیانت داری شبہات سے بالاتر ہو سکے۔