سکھر بیراج: قومی زرعی معیشت کا محافظ اور جدید بحالی کی ضرورت

رحمت اللہ ٻرڙو

اگر سندھ کی زرعی زندگی، معاشی استحکام اور سماجی بقا کے کسی ایک مضبوط ستون کا نام لیا جائے تو وہ بلا شبہ سکھر بیراج ہے۔ 1932ء میں برطانوی دور حکومت میں تعمیر ہونے والا یہ عظیم الشان بیراج، جسے ابتدا میں لائیڈ بیراج کہا جاتا تھا، آج بھی سندھ کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس بیراج سے نکلنے والی سات بڑی نہریں بائیں اور دائیں کنارے پر پھیلی ہوئی ہیں جو صوبے کی زرعی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔تاہم ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بیراج کے دروازے، اس کا مکینیکل نظام اور سول اسٹرکچر اپنی مقررہ مدتِ حیات سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ کئی دروازے کمزور ہو چکے، بعض مکمل طور پر ناکارہ ہوئے اور کچھ کو دوبارہ مضبوط یا بڑا (Enlarge) کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ یہ صورت حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ محض عارضی مرمت کافی نہیں بلکہ ایک جامع اور سائنسی بنیادوں پر بحالی منصوبہ ناگزیر ہے۔
تکنیکی اور مکینیکل چیلنجز.
بیراج کے دروازے بھاری اسٹیل اور پیچیدہ مکینیکل نظام پر مشتمل ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زنگ، پانی کا دباؤ، ریت (سلٹ) اور موسمی تبدیلیاں ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ جب کوئی دروازہ اپنی ڈیزائن لائف سے تجاوز کر جائے تو اس کے ٹوٹنے یا جام ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے نہ صرف پانی کی تقسیم متاثر ہوتی ہے بلکہ سیلابی خطرات بھی جنم لے سکتے ہیں۔
اسی طرح بئراج کا سول ڈھانچہ-بنیادیں،فرش، پشتے اور حفاظتی بند بھی مسلسل دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ اگر بروقت اسٹرکچرل آڈٹ نہ کیا جائے تو معمولی دراڑ مستقبل میں بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ لہٰذا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسٹرکچرل ہیلتھ مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

نہروں اور ہیڈ ریگولیٹرز کی حالت.

سکھر بیراج سے نکلنے والی نہریں جیسے روہڑی، نارا، خیرپور فیڈر، دادو اور رائٹ بینک کینال سندھ کی زرعی رگیں ہیں۔ ان نہروں کے ہیڈ ریگولیٹرز اور دروازے بھی تقریباً اتنی ہی عمر کے ہیں جتنی خود بیراج کی۔ اگر ان میں خرابی پیدا ہو تو ہزاروں ایکڑ زمین پانی سے محروم ہو سکتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے اپنے آبپاشی نظام کو خودکار (Automation) نظام سے منسلک کر دیا ہے، جہاں ریموٹ کنٹرول گیٹس اور ڈیجیٹل فلو میٹرز کے ذریعے پانی کی تقسیم کو مؤثر بنایا جاتا ہے۔ سندھ میں بھی ایسے جدید نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

قومی ورثہ اور معاشی اہمیت.

سکھر بیراج محض ایک انجینئرنگ ڈھانچہ نہیں بلکہ قومی ورثہ ہے۔ سندھ کی زرعی پیداوارگندم، چاول، کپاس اور گنا کا بڑا انحصار اسی نظام پر ہے۔ اگر بئراج کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست قومی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
اسی لیے اس کی بحالی صرف صوبائی نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت ایک جامع ماسٹر پلان تشکیل دینا چاہیے۔ اس ضمن میں عالمی مالیاتی اداروں جیسے World Bank اور Asian Development Bank سے تکنیکی اور مالی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے،جیسا کہ ماضی میں دیگر آبپاشی منصوبوں میں کیا گیا۔
ماہرین کی شمولیت اور اصلاحات.
ضروری ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی ماہرینِ آبپاشی، ہائیڈرولوجسٹ اور اسٹرکچرل انجینئرز کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ایک جامع تکنیکی آڈٹ کے بعد مرحلہ وار منصوبہ بندی کی جائے، جس میں تمام دروازوں کی مرحلہ وار تبدیلی یا جدید گیٹس کی تنصیب،حفاظتی بندوں اور پشتوں کی مضبوطی،
ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور خودکار کنٹرول سسٹم
مستقل مینٹیننس فنڈ کا قیام شامل ہوں۔
مستقبل کی سمت
موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی ضروریات کے تناظر میں یہ ناگزیر ہے کہ سکھر بیراج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اگر آج سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔سکھر بیراج سندھ کی زرعی زندگی کی علامت ہے۔ اس کی بقا دراصل قومی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت،وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر عملی اقدامات کریں، شفاف منصوبہ بندی کریں اور عالمی سطح پر تعاون حاصل کریں۔ اسی میں صوبے،کسان اور ملک کی معاشی سلامتی پوشیدہ ہے۔