رمضان، برینڈ روڈ اور بے وقت ترقیاتی منصوبے
رمضان، برینڈ روڈ اور بے وقت ترقیاتی منصوبے
تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323
ترقی کسی بھی معاشرے کی پہچان ہوتی ہے، سڑکیں، پل اور انفراسٹرکچر ریاست کی ترجیحات میں شامل ہوتے ہیں، مگر سوال یہ نہیں کہ ترقی ہونی چاہیے یا نہیں—سوال یہ ہے کہ کب، کیسے اور کس کی مشاورت سے؟ اگر ترقی عوامی سہولت کے بجائے عوامی اذیت بن جائے تو پھر نیت پر نہیں، منصوبہ بندی پر سوال اٹھتا ہے۔
ملتان کے مرکزی تجارتی علاقے برینڈ روڈ گلگشت پر سڑک کی توسیع کے منصوبے کا حالیہ آغاز اسی سوال کو جنم دے رہا ہے۔ ایک ایسا وقت جب رمضان المبارک کی آمد قریب ہے، جب شہر بھر میں کاروباری سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچتی ہیں، جب عیدالفطر کی خریداری کے لیے نہ صرف ملتان بلکہ پورے جنوبی پنجاب سے خریدار اس علاقے کا رخ کرتے ہیں—ایسے نازک اور مصروف سیزن میں ترقیاتی کاموں کا آغاز عقل و دانش سے زیادہ عجلت کا تاثر دیتا ہے۔
برینڈ روڈ محض ایک سڑک نہیں، یہ ملتان کا تجارتی چہرہ ہے۔ یہاں موجود برانڈ شاپس، چھوٹے دکاندار، ملازمین، خریدار اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار اس سڑک کی روانی سے جڑا ہوا ہے۔ رمضان اور عید کا سیزن ان کاروباروں کے لیے پورے سال کی کمائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایسے میں اگر سڑک کھود دی جائے، ٹریفک بلاک ہو، پارکنگ ختم ہو جائے اور متبادل راستوں کا کوئی واضح بندوبست نہ ہو تو نقصان صرف دکاندار کا نہیں بلکہ پورے شہر کی معیشت کا ہوتا ہے۔
یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ اس منصوبے سے قبل نہ تو مقامی تاجر برادری کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی کوئی جامع ٹریفک پلان عوام کے سامنے لایا گیا۔ دنیا بھر میں ترقیاتی منصوبے Stakeholders Consultation کے بغیر نامکمل سمجھے جاتے ہیں، مگر یہاں مشاورت کو غیر ضروری سمجھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج دکاندار پریشان ہیں، خریدار الجھن کا شکار ہیں اور ٹریفک کا نظام پہلے سے زیادہ مفلوج ہو چکا ہے۔
برینڈ روڈ پر ٹریفک کا مسئلہ نیا نہیں۔ سڑک کنارے غیرقانونی پارکنگ، بے ہنگم ریڑھیاں، ٹریفک قوانین کی عدم پابندی—یہ سب مسائل برسوں سے موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی اصلاح مقصود تھی تو سب سے پہلے ان وجوہات پر ہاتھ ڈالا جاتا۔ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ اور میونسپل ادارے باہمی مشاورت سے ایک قابلِ عمل پلان ترتیب دیتے۔ ریڑھی والوں کے لیے متبادل جگہ مختص کی جاتی، پارکنگ کا مؤثر نظام بنایا جاتا، مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ نہ ہوا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی رش بڑھے گا، افطار سے قبل ٹریفک جام معمول بن جائے گا، خواتین، بزرگ اور بچوں کے لیے خریداری ایک اذیت بن جائے گی، جبکہ دکانداروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوگا۔ یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا ہے جب تھوڑی سی منصوبہ بندی سے اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔
یہ کہنا ہرگز مقصود نہیں کہ ترقیاتی کام روکے جائیں، بلکہ گزارش صرف اتنی ہے کہ درست وقت پر درست فیصلہ کیا جائے۔ اگر یہی منصوبہ عیدالفطر کے بعد شروع کیا جاتا تو نہ صرف کام کی رفتار بہتر ہوتی بلکہ عوامی ردِعمل بھی مثبت ہوتا۔ ترقی کا حسن یہی ہے کہ وہ عوام کو ساتھ لے کر چلے، نہ کہ انہیں مشکلات میں مبتلا کرے۔
کمشنر ملتان ایک ذمہ دار انتظامی عہدہ رکھتے ہیں۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ زمینی حقائق، تجارتی تقاضوں اور عوامی سہولت کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلے کریں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اس منصوبے کے شیڈول پر نظرثانی کی جائے، تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے، اور رمضان و عید کے دوران کام عارضی طور پر روک کر عوام کو ریلیف دیا جائے۔
ترقی کا سفر یکطرفہ نہیں ہوتا، یہ مکالمے، مشاورت اور اعتماد سے طے ہوتا ہے۔ اگر عوامی آواز کو سنا جائے، تو یہی آواز کل انتظامیہ کے لیے طاقت بن جاتی ہے۔ بصورتِ دیگر، ترقی کے نام پر کیے گئے فیصلے بداعتمادی، نقصان اور انتشار کو جنم دیتے ہیں۔
ملتان ایک زندہ شہر ہے، اس کی معیشت، اس کے بازار اور اس کے لوگ اس کی اصل طاقت ہیں۔ ان طاقتوں کو کمزور کر کے کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ امید ہے کہ اربابِ اختیار اس حقیقت کو سمجھیں گے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے بروقت اور دانشمندانہ فیصلہ کریں گے۔







































Visit Today : 413
Visit Yesterday : 577
This Month : 5663
This Year : 53499
Total Visit : 158487
Hits Today : 2780
Total Hits : 710779
Who's Online : 2



















