ملتان پریس کلب کے انتخابات: مرد صحافیوں کے گلے شکوے اور خواتین صحافیوں کے لیے علیحدہ کمرے کی ضرورت

تحریر: زین العابدین عابد

ملتان پریس کلب کے انتخابات 15 فروری کو منعقد ہو رہے ہیں اور اس وقت صحافتی برادری کی توجہ اس اہم معرکے پر مرکوز ہے۔ دو مضبوط گروپ آمنے سامنے ہیں، ایک کی قیادت موجودہ صدر شکیل انجم کر رہے ہیں جبکہ دوسرے گروپ کی سربراہی سابق صدر اشفاق احمد کے پاس ہے۔ دونوں دھڑے اپنی کارکردگی، تجربے اور مستقبل کے وعدوں کی بنیاد پر حمایت حاصل کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ یہ انتخابی مقابلہ صرف عہدوں کی جنگ نہیں بلکہ ملتان کی صحافتی سمت کے تعین کا مرحلہ بھی ہے۔ ایک جانب تسلسل اور استحکام کا نعرہ ہے تو دوسری جانب تبدیلی اور نئے وژن کی بات کی جا رہی ہے۔ ایسے میں ووٹرز کے لیے یہ فیصلہ اہم ہے کہ وہ پریس کلب کی آئندہ قیادت کس سوچ اور حکمتِ عملی کے سپرد کرتے ہیں۔ تاہم اس تمام انتخابی سرگرمی میں ایک اہم پہلو نمایاں طور پر سامنے آیا ہے: خواتین کی نمائندگی۔ ملتان پریس کلب میں خواتین ممبران موجود ہیں، وہ پیشہ ورانہ طور پر متحرک بھی ہیں، لیکن کسی بڑی نشست خصوصاً صدر، جنرل سیکرٹری یا دیگر کلیدی عہدوں، کے لیے سامنے نہیں آئیں۔ یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب خواتین صحافت کے میدان میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی خدمات مسلمہ ہیں، تو ملتان پریس کلب میں ان کے لیے باعزت، محفوظ اور علیحدہ نشست و کار کی جگہ کا ہونا ناگزیر ہے۔ جس طرح ڈسٹرکٹ بار ملتان میں خواتین وکلاء کے لیے علیحدہ کمرے اور سہولیات موجود ہیں، اسی طرز پر ملتان پریس کلب میں بھی خواتین صحافیوں کے لیے باقاعدہ اور باوقار انتظام ہونا چاہیے۔
اسی تناظر میں خاتون صحافی زاہدہ چوہدری کی شکایت اور تجاویز کو مرتب اور مدلل انداز میں پیش کیا جا رہا ہے:
زاہدہ چوہدری کے مطابق وہ گزشتہ پچیس برس سے شعبۂ صحافت سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے سن 2000 میں عملی صحافت کا آغاز کیا اور اس وقت کے صدرِ پریس کلب، جبارمفتی صاحب کے دور میں باقاعدہ رکنیت حاصل کی۔ بعد ازاں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے معاملے میں انہوں نے بعض مبینہ بے ضابطگیوں اور نام نہاد نجومی عناصر کے خلاف آواز اٹھائی، جس کے نتیجے میں ان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ ان کے بقول ان کی جگہ ایک غیر متعلقہ اور غیر پیشہ ور فرد کو کسی فرضی ٹی وی چینل کا نمائندہ ظاہر کر کے رکنیت دے دی گئی۔
وہ خود کو ایک ورکنگ جرنلسٹ قرار دیتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ وہ مختلف پلیٹ فارمز پر صحافتی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ انہیں “قائداعظم گولڈ میڈل” سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اس وقت وہ اپنی رجسٹرڈ فرم “میڈیا اینڈ لائٹ” کی ڈائریکٹر ہیں، جس کے تحت پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے متعلق سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی ذریعہ معاش صحافت ہی رہا ہے۔
پلاٹوں کے معاملے پر وہ مزید بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص شاہد خان، جو سنگِ میل کے پلیٹ فارم سے وابستہ تھا، مبینہ طور پر مالی بدعنوانی کر کے ملتان سے فرار ہو گیا۔ اس معاملے میں ان کے سات سے آٹھ لاکھ روپے بھی شامل تھے۔ انہوں نے ایف آئی آر درج کروائی اور تمام قانونی دستاویزات ان کے پاس موجود ہیں، مگر تاحال انصاف نہیں مل سکا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مذکورہ شخص کا الاٹ شدہ پلاٹ منسوخ کر کے انہیں دیا جائے، کیونکہ وہ خود متاثرہ فریق ہیں اور طویل عرصے سے صحافتی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
زاہدہ چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ ایک خاتون ہونے کے ناتے مسلسل جدوجہد سے گریزاں رہی ہیں، تاہم اصولی طور پر ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں بھی دیگر صحافیوں کی طرح مساوی سہولیات اور مراعات دی جائیں۔
انہوں نے ایک نہایت اہم مسئلہ خواتین صحافیوں کے لیے علیحدہ اور محفوظ جگہ کی عدم موجودگی کو قرار دیا۔ ان کے مطابق ملتان پریس کلب میں خواتین کے لیے نہ تو کوئی مخصوص کمرہ ہے اور نہ ہی ایسا ماحول جو ان کے وقار کے شایانِ شان ہو۔ بعض اوقات غیر مناسب ماحول، تمباکو نوشی اور غیر سنجیدہ گفتگو کی وجہ سے خواتین کے لیے وہاں بیٹھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض اوقات خواتین کو رکنیت کے معاملات میں بھی امتیازی سلوک اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ پریس کلب کی عمارت چونکہ دو منزلہ ہے، لہٰذا ایک مکمل کمرہ خواتین کے لیے مخصوص کیا جائے، جہاں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہو۔ اس کمرے میں کمپیوٹر سسٹم، انٹرنیٹ، اور بنیادی تفریحی سہولیات بھی فراہم کی جائیں، تاکہ خواتین صحافی نہ صرف آرام سے بیٹھ سکیں بلکہ باہمی تبادلہ خیال اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع بھی حاصل کر سکیں۔
وہ اس امر پر بھی زور دیتی ہیں کہ خواتین صحافیوں کا آپس میں رابطہ اور مکالمہ بے حد ضروری ہے، کیونکہ اسی سے فکری ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ موجودہ حالات میں انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ پریس کلب میں کتنی خواتین ارکان ہیں اور کون فعال ہے، کیونکہ ماحول کی وجہ سے وہ باقاعدگی سے آنا مناسب نہیں سمجھتیں۔
یہ مسئلہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر خواتین صحافیوں کے وقار، تحفظ اور مساوی حقوق کا ہے۔ اگر ملتان پریس کلب واقعی ایک جمہوری اور پیشہ ورانہ ادارہ ہے، تو اسے اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں، تاکہ خواتین صحافی باعزت، محفوظ اور بااختیار انداز میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
سدرہ فاروق ایک سنجیدہ اور باوقار صحافی ہیں جو ایس جی ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ملتان پریس کلب میں خواتین کے لیے علیحدہ کمرے کی تجویز پیش کی ہے بلکہ اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب خواتین صحافی عملی میدان میں متحرک اور مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں تو انہیں ایک باوقار، محفوظ اور پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اسی ضمن میں میری “فضہ حسین” اور متعدد خواتین صحافیوں سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ پہلی مرتبہ کسی نے سنجیدگی کے ساتھ خواتین صحافیوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بقول ملتان پریس کلب میں ایک ایسا علیحدہ ماحول اور مخصوص کمرہ ناگزیر ہے جہاں وہ اطمینان اور وقار کے ساتھ بیٹھ سکیں، باہمی مشاورت کر سکیں اور اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں انجام دے سکیں۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ صوبۂ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری دونوں خواتین ہیں۔ لہٰذا توقع کی جاتی ہے کہ وہ خواتین صحافیوں کی اس جائز اور اصولی آواز کو سنیں گی اور اس پر مثبت پیش رفت کو یقینی بنائیں گی۔ خواتین کے وقار، تحفظ اور مساوی مواقع کی فراہمی محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ معاشرتی انصاف اور پیشہ ورانہ احترام کا تقاضا ہے۔