جینڈر بیسڈ وائلنس کی روک تھام: بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں تربیتی ورکشاپ
ملتان: یو این ڈی پی کے تعاون سے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ریورٹس لرننگ اور سنگی کے زیر اہتمام صنف کی بنیاد پر نفرت انگیز گفتگواور ان لائن نفرت انگیز مواد کے حوالے سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود نفرت انگیز مواد کی تشہیر اور متبادل بیانئے کے حوالے سے اگاہی دی گئی ہے۔ ذیشان نوئل، سحر مقبول اور اطہر ندیم نے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو صنف اور اس سے جڑے ہوئے مختلف تصورات کو واضح کیا ہے ساتھ ساتھ بچوں کو اس حوالے سے بھی اگاہی دی گئی کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر نفرت انگیز مواد سے جینڈر بیسڈ وائلنس کو فروغ ملتا ہے۔خاص طور پر خواتین اور ٹرانس جینڈر کے بارے میں نفرت انگیز گفتگو ان کو معاشرتی ترقی میں شامل ہونے سے روکتی ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے صنفی تشدد کی روک تھام کے لیے مختلف قوانین بنائے گئے ہیں اور ان قوانین اور اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے حوالے سے تمام طالب علموں خاص طور پرطالبات اگاہی دی گئی۔ اس ورکشاپ میں ٹیکنالوجی مدد سے ہونے والے کے صنفی تشدد کے حوالے سے اگاہ کیا گیا اس کی اقسام اور اس سے متعلق حفاظتی تدابیر کے حوالے سے بھی بتایا گیا۔ان لائن ہراسمنٹ کی شکایت درج کرانے کے طریقہ کار کی وضاحت اور اس ضمن میں ایف آئی اے کے طریقہ کار کی وضاحت محمد عمران صاحب نے کی۔ انہوں نے ایف آئی اے کی کاوشوں کا ذکر کیا کہ وہ کس طرح متاثرین کی مدد کر رہے ہے۔کاشف صدیق نے جینڈر سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں ان سیشن کا انعقاد کرایا۔ ان کا ڈپارٹمنٹ صنفی مساوات اور صنفی ترقی کےلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔







































Visit Today : 413
Visit Yesterday : 577
This Month : 5663
This Year : 53499
Total Visit : 158487
Hits Today : 2763
Total Hits : 710762
Who's Online : 1



















