گورنر ہاؤس کی خاموشی اور محتسب کی ناانصافی

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

یہ ایک عام شہری کی کہانی نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کا نوحہ ہے جہاں صوبائی محتسبِ پنجاب جیسے ادارے سے ناانصافی کے بعد امید کی آخری کرن گورنر ہاؤس کی اپیل پر ٹوٹتی نظر آتی ہے اور مہینوں گزر جانے کے باوجود جواب نہ آنا اس بات کا ثبوت بن جاتا ہے کہ ریاستی ایوانوں میں عام آدمی کی فریاد کی کوئی ترجیح نہیں رہی۔
آئین اور قانون ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہر شہری کو داد رسی کا حق حاصل ہے مگر عملی زندگی میں یہ حق فائلوں، تاریخوں، فیسوں اور خاموشی کی نذر ہو جاتا ہے، اور جب ایک شہری اداروں کی کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ عدالتوں کا راستہ اختیار کرو، حالانکہ عدالتوں کا سفر خود ایک آزمائش بن چکا ہے۔
عدالتیں مقدمات کے انبار تلے دبی ہوئی ہیں، لاکھوں کیسز برسوں سے زیرِ التوا ہیں، ایک تاریخ دوسری تاریخ کو جنم دیتی ہے، اور انصاف کا تقاضا وقت کے ساتھ کمزور پڑتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ سائل انصاف سے پہلے تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔
صوبائی محتسب کا ادارہ اس نیت سے قائم کیا گیا تھا کہ عام شہری کو کم خرچ، تیز اور مؤثر انصاف فراہم کیا جا سکے، مگر جب اسی ادارے کے فیصلے پر سوال اٹھیں اور اس کے خلاف اپیل کا حق بھی بے اثر ہو جائے تو پھر یہ ادارہ عوام کے لیے سہولت کے بجائے ایک اور رکاوٹ بن جاتا ہے۔
گورنر ہاؤس کو کی گئی اپیل کا مہینوں جواب نہ ملنا محض انتظامی تاخیر نہیں بلکہ یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ عام شہری کی آواز اقتدار کے ایوانوں میں گونج پیدا نہیں کر سکتی، اور یہی خاموشی ناانصافی کو مزید طاقت دیتی ہے۔
ریاستی ادارے جب خود احتسابی سے بچنے کے لیے شہری کو عدالتوں کی بھول بھلیوں میں دھکیل دیتے ہیں تو دراصل وہ انصاف کی ذمہ داری سے جان چھڑاتے ہیں، اور اس سارے عمل کی قیمت عوام کو اپنی جیب اور اپنے وقت سے چکانا پڑتی ہے۔
عدالتوں سے نقول حاصل کرنے کی فیسیں ہزاروں روپے تک پہنچ جانا اس بات کی واضح مثال ہے کہ انصاف اب غریب کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، ایک مزدور یا متوسط طبقے کا شہری اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرے یا انصاف کی فیسیں ادا کرے، یہ سوال اب اس کی زندگی کا تلخ حصہ بن چکا ہے۔
ریاست یہ دعویٰ تو کرتی ہے کہ انصاف سب کے لیے برابر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ طاقتور کے لیے راستے آسان اور کمزور کے لیے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قانون پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔
جب ایک شہری بار بار دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود خاموشی کے سوا کچھ نہ پائے تو اس کے دل میں ریاست کے بارے میں مایوسی جنم لیتی ہے، اور یہی مایوسی معاشرے میں بے چینی، بداعتمادی اور اضطراب کو بڑھا دیتی ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ایک عام شہری کو صوبائی محتسب، گورنر ہاؤس اور عدالتوں تینوں جگہوں سے فوری اور سستا انصاف نہ مل سکے تو پھر وہ کس نظام پر یقین رکھے اور کس وعدے پر اعتماد کرے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے اداروں میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے، اور جب ادارے خاموشی اور تاخیر کو معمول بنا لیں تو یہ اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔
آج عوام کو جس چوراہے پر لا کھڑا کیا گیا ہے وہاں ایک سمت مہنگا انصاف ہے، دوسری سمت طویل عدالتی عمل، تیسری سمت ادارہ جاتی خاموشی اور چوتھی سمت مایوسی، اور ان سب کے بیچ کھڑا عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس کا قصور کیا ہے۔
یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ گورنر ہاؤس اپیلوں کو محض رسمی کارروائی نہ سمجھے بلکہ انہیں بروقت اور شفاف انداز میں نمٹائے، صوبائی محتسب کے فیصلوں پر مؤثر نظرِثانی کا نظام قائم کیا جائے، اور عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے عملی اصلاحات کی جائیں۔
اگر انصاف کی قیمت کم نہ کی گئی اور خاموشی کا یہ سلسلہ نہ ٹوٹا تو وہ دن دور نہیں جب عوام انصاف کے اداروں سے امید چھوڑ بیٹھیں گے، اور یہ کسی بھی ریاست کے لیے سب سے خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔
انصاف مانگنا جرم نہیں، سوال اٹھانا بغاوت نہیں، اور اپیل کا جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر یہ بنیادی اصول ہی نظر انداز ہو جائیں تو پھر نظامِ انصاف کا وجود محض ایک دعویٰ بن کر رہ جاتا ہے۔