12 فروری عزم نسواں کا دن
12 فروری عزم نسواں کا دن
تحریر: ایس پیرزادہ
پاکستان میں 12 فروری کو خواتین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے یہ دن محض ایک رسمی تاریخ نہیں بلکہ اُس جرات اور استقامت کی علامت ہے جو 12 فروری 1983ء کو لاہور کی سڑکوں پر دیکھنے میں آئی جب باہمت خواتین نے امتیازی قوانین کے خلاف آواز بلند کی اس دن نہتی عورتوں پر لاٹھی چارج کیا گیا آنسو گیس پھینکی گئی انہیں گھسیٹا گیا مگر ان کے حوصلے پست نہ ہوئے وہ زخمی ہوئیں مگر خاموش نہ ہوئیں
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عورت جب اپنے حق کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوتا ہے اسلام نے عورت کو وہ مقام دیا جس کی مثال اُس دور کے کسی اور معاشرے میں نہیں ملتی قرآنِ کریم نے مرد اور عورت دونوں کو یکساں عزت کا حقدار قرار دیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کو رحمت ماں کو جنت کا دروازہ اور بیوی کو بہترین رفیق کا درجہ دیا حضرت خدیجۃ الکبریٰ ایک کامیاب تاجرہ تھیں حضرت عائشہ علم و دانش کا روشن مینار تھیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے عورت کو محدود نہیں کیا بلکہ اسے بااختیار بنایا مسئلہ مذہب میں نہیں مسئلہ معاشرتی رویوں اور فرسودہ سوچ میں ہے پاکستان کی تاریخ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی مثال ہمارے سامنے ہے ایک مردانہ سیاسی ماحول میں اپنی شناخت بنانا آسان نہ تھا انہیں قید و بند جلاوطنی اور کردار کشی جیسے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑا مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور ثابت کیا کہ عورت اگر عزم کر لے تو اقتدار کے ایوان بھی اس کے قدموں کی چاپ سننے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن سچ یہ بھی ہے کہ ہمارا معاشرہ اب بھی بڑی حد تک مردانہ سوچ کا حامل ہے عورت کے لیے مقام بنانا آسان نہیں اسے اپنی قابلیت سے زیادہ اپنے کردار کا ثبوت دینا پڑتا ہے اگر وہ خاموش رہے تو کمزور سمجھی جاتی ہے اگر بولے تو گستاخ قرار دی جاتی ہے اگر آگے بڑھے تو اس کے مخالفین کھڑے ہو جاتے ہیں جو قدم قدم پر اس کی راہوں میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں میں جانتی ہوں کہ ہراسمنٹ کے حوالے سے کن مشکلات اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ صرف چند جملوں یا نعروں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک کربناک حقیقت ہے ورک پلیس پر شکایات درج کروانے میں تاخیر انکوائریوں میں بے ضابطگیاں دباؤ کردار کشی اور ذہنی اذیت یہ سب ایک عورت کو توڑنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مگر جب عورت حق پر ہو اور اس کا ضمیر مطمئن ہو تو وہ ٹوٹتی نہیں بلکہ اور مضبوط ہو جاتی ہے
آج کی عورت تعلیم صحافت سیاست طب قانون اور کاروبار ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے تحفظ مساوی مواقع اور عزت کی ضرورت ہے خواتین کے حقوق کا تحفظ صرف قانون بنانے سے نہیں ہوگا بلکہ اس پر مؤثر عملدرآمد سے ہوگا اداروں کو شفاف نظام قائم کرنا ہوگا معاشرے کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی اور ہمیں اپنی بیٹیوں کو خوف نہیں بلکہ اعتماد دینا ہوگا
حقوق کے ساتھ فرائض بھی جڑے ہیں عورت اگر معاشرے کی معمار ہے تو اسے اپنی ذمہ داریوں کا شعور بھی ہونا چاہیے بطور ماں استاد رہنما اور پیشہ ور فرد اس کا کردار نسلوں کی تربیت اور قوم کی تعمیر میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے
12 فروری ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ عورت کمزور نہیں وہ صبر کی تصویر بھی ہے اور عزم کی علامت بھی اگر اسے اس کا جائز مقام دے دیا جائے تو وہ نہ صرف اپنا مستقبل سنوار سکتی ہے بلکہ ایک مضبوط اور باوقار معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جدوجہد رائیگاں نہیں جاتی اگر راستہ کٹھن ہو، مخالفت شدید ہو اور مشکلات پہاڑ بن جائیں تب بھی سچائی اور حوصلہ آخرکار سرخرو ہوتے ہیں
عورت کو کمزور نہ سمجھا جائے کیونکہ جب وہ کھڑی ہوتی ہے تو تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے







































Visit Today : 413
Visit Yesterday : 577
This Month : 5663
This Year : 53499
Total Visit : 158487
Hits Today : 2757
Total Hits : 710756
Who's Online : 1



















