ملتان: شاہین آباد کالونی گلی نمبر 1 مکان نمبر 172 کی رہائشی بزرگ خاتون زبیدہ بی بی زوجہ محمد اکبر نے اپنے وکیل نشید عارف گوندل کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اربابِ اختیار سے فوری انصاف اور تحفظ کی اپیل کی ہے، زبیدہ بی بی نے بتایا کہ لاہور فیروزپور روڈ پر واقع ان کی چار کنال اراضی ان کے بیٹے دلاور نے عمیر نامی شخص کو 22 کروڑ روپے میں فروخت کی ،خریدار نے مبینہ طور پر صرف ایک کروڑ روپے ادا کرکے زمین پر قبضہ کرلیا جبکہ بقایا رقم ادا نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی ذیشان رضا و دیگر بااثر افراد کی پشت پناہی کے باعث انہیں شدید دباؤ اور مقدمات کا سامنا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ 10 فروری کی صبح جب ان کے شوہر محمد اکبر، بیٹا دلاور اور وکیل نشید عارف گوندل ضمانت کے سلسلے میں لاہور روانہ ہوئے تو اسی دوران سادہ لباس اور پولیس وردی میں ملبوس افراد، جن میں مبینہ طور پر ایس ایچ او شاہ رکن عالم، اے ایس آئی طارق لطیف اور دیگر اہلکار شامل تھے، بغیر وارنٹ ان کے گھر میں داخل ہوئے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، خواتین کو ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مبینہ طور پر دو لاکھ روپے نقدی اور پانچ تولے سونا بھی ساتھ لے جایا گیا، زبیدہ بی بی کے مطابق چھاپے کے دوران افراد بار بار ان کے شوہر اور بیٹے کے بارے میں پوچھتے رہے، فون پر رابطہ کروانے پر ایک شخص نے خود کو ڈی آئی جی ذیشان رضا ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ رقم ادا نہ کی گئی تو پورے خاندان کو جان سے مار دیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بیٹے محمد اشرف کو اسلحہ کے زور پر ساتھ لے جایا گیا اور مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو کر بزرگ خاتون نے کہا، میں ایک بے سہارا بزرگ عورت ہوں، میرا بائیو میٹرک بھی نہیں ہو رہا، میری کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔ میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں مگر کوئی داد رسی نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں، ان کے شوہر، بیٹوں اور خاندان کو ذیشان رضا، عمیر اور دیگر افراد سے جان کا شدید خطرہ ہے اور مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔زبیدہ بی بی نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس آف پاکستان سے پرزور اپیل کی کہ وہ ازخود نوٹس لے کر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیں، ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی ریڈ، خواتین کو ہراساں کرنے اور مبینہ لوٹ مار میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔