نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کا خاتمہ….عوام کے خواب پر حکومتی بریک

تحریر: غضنفرملک

یہ فیصلہ محض ایک سرکاری نوٹیفکیشن نہیں، بلکہ لاکھوں متوسط طبقے کے گھروں میں لگے سولر پینلز پر پڑنے والی وہ ضرب ہے جس نے توانائی کے خودمختار مستقبل کا خواب دکھایا تھا۔ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کا خاتمہ دراصل اس امید کا خاتمہ ہے کہ عام شہری مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران سے خود کو بچا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بجلی کے بل عوام کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں، صنعتیں سسک رہی ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔

نیٹ میٹرنگ نے شہری کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ سورج کی روشنی کو اپنی چھت پر قید کرے، اپنی ضرورت پوری کرے اور اضافی بجلی قومی گرڈ کو واپس دے کر اپنی لاگت کم کرے۔ یہ پالیسی صرف مالی ریلیف نہیں تھی، یہ ایک سوچ تھی—توانائی میں شراکت، ماحول دوستی اور ریاست پر بوجھ کم کرنے کی سوچ۔ مگر اب یہی سوچ غیر یقینی کی نذر ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس کے مفاد میں نیٹ میٹرنگ پالیسی ختم کی جارہی ہے؟

حکومتی مؤقف یہ دیا جا رہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے گردشی قرض بڑھ رہا ہے، تقسیم کار کمپنیوں کو نقصان ہو رہا ہے اور نظام عدم توازن کا شکار ہے۔ مگر کیا اس عدم توازن کی واحد وجہ عوام ہیں ؟ کیا مہنگے پاور پلانٹس، گنجائش سے زائد معاہدے، لائن لاسز اور ناقص وصولی اس بحران کا حصہ نہیں؟ اگر نظام میں خرابی ہے تو اس کی مرمت کیوں نہیں کی جاتی، بجائے اس کے کہ عوام کے واحد ریلیف کو ختم کر دیا جائے؟

نیٹ میٹرنگ کے خاتمے سے سب سے بڑا نقصان اعتماد کو پہنچے گا۔ وہ شہری جنہوں نے لاکھوں روپے خرچ کر کے سولر سسٹم لگایا، وہ کس سے پوچھیں کہ ان کے فیصلے کی ذمہ داری کون لے گا؟ پالیسیوں کا اس طرح یو ٹرن لینا سرمایہ کاری کے ماحول کو زہر آلود کرتا ہے۔ آج سولر متاثر ہوا ہے، کل کوئی اور شعبہ۔ نتیجہ یہ کہ لوگ ریاستی پالیسی پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

ماحولیاتی زاویہ بھی کم اہم نہیں۔ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔ سولر توانائی نہ صرف کاربن اخراج کم کرتی ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی گھٹاتی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے ریاست نے گھروں کو چھوٹے پاور ہاؤسز میں بدل دیا تھا۔ اب اس راستے کو بند کرنا دراصل ماحولیاتی اہداف سے پیچھے ہٹنا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں نیٹ میٹرنگ ماڈلز میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، مگر خاتمہ نہیں کیا جا رہا۔ کہیں ٹیرف ایڈجسٹ ہوا، کہیں گرڈ فیس لگی، کہیں ٹائم آف یوز متعارف ہوا۔ اصلاح اور توازن ممکن تھا، مگر یہاں سیدھا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ عوام کے کندھوں پر کیوں؟

توانائی کا بحران صرف تکنیکی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ جب ریاست شہری کو خود کفیل بننے سے روکے تو سوال اٹھتا ہے کہ ریاست کس کی محافظ ہے—عوام کی یا مفادات کی؟ اگر تقسیم کار کمپنیوں کو بچانا مقصد ہے تو انہیں بہتر بنائیں، شفاف بنائیں، لائن لاسز کم کریں، وصولی بہتر کریں۔ مگر آسان راستہ چنا گیا: عوامی ریلیف ختم کر دو۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے خاتمے کے بجائے ایک متوازن، شفاف اور قابلِ عمل ماڈل لایا جائے۔ ایسا ماڈل جو گرڈ کے استحکام کو بھی دیکھے، کمپنیوں کی بقا کو بھی، اور عوام کے حق کو بھی۔ پالیسی وہی کامیاب ہوتی ہے جو اعتماد پیدا کرے، نہ کہ خوف اور غیر یقینی۔

اگر حکومت واقعی توانائی کے بحران سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے سورج سے لڑنے کے بجائے سورج کو گلے لگانا ہوگا۔ نیٹ میٹرنگ کسی مسئلے کا سبب نہیں، یہ حل کا حصہ تھی۔ اسے ختم کرنا نہیں، بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے—ورنہ یہ فیصلہ تاریخ میں ایک اور عوام دشمن پالیسی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

 

******