ملتان(صفدربخاری سے)  شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ عظمتِ رسالت ﷺ پر قرآنِ مجید میں جتنی آیات نازل ہوئیں، ہر آیت میں ایسی بے مثال عظمت بیان کی گئی ہے کہ اس پر لاکھوں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں۔ جب بھی کوئی قرآنِ مجید کے اس بحرِ بیکراں میں اترا، وہ نئے جواہر اور موتی لے کر نکلا اور مخلوق کو ان سے آراستہ کیا۔ قیامت تک اللہ تعالیٰ جسے توفیق عطا فرمائیں گے، عظمتِ رسول ﷺ کا بیان جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید حقوق و فرائض کی ایسی جامع اور منصفانہ تقسیم پیش کرتا ہے جس کی رہنمائی میں غیر مسلم بھی اس دنیا میں ترقی کر رہے ہیں۔ قرآن کے فیصلوں میں ایسا کامل انصاف ہے کہ سزا پانے والا بھی اسے مسکراتے ہوئے قبول کرتا ہے، کیونکہ اس میں سب کے لیے عدل و انصاف کی مثال قائم کی گئی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ یہ امت دنیا کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے اور روزِ محشر باقی تمام امتوں پر گواہ ہوگی، لیکن آج اس امت میں شدید تفریق پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں بدامنی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پالیسیاں بن رہی ہیں جن کے نتیجے میں ہمارے ہی بھائی شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں بم دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہم من حیث القوم کب یہ ادراک کریں گے کہ ہم اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نبی کریم ﷺ کی امت ہونا ہمارے لیے بہت بڑا شرف ہے، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم خود کہاں کھڑے ہیں۔ اس نسبت کی نزاکت کو سمجھنے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتی ہونے کا رشتہ انتہائی نازک بھی ہے کہ ایک لمحے کا غلط خیال اسے مجروح کر سکتا ہے، اور اتنا مضبوط بھی ہے کہ موت بھی وارد ہو جائے تو یہ رشتہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ اس کی بنیاد ایمان پر ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح شعور اور فہم عطا فرمائے۔ آخر میں امیر عبدالقدیر اعوان نے ملکی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کروائی۔