ملتان :  مرکزی تنظیم لائسنس داران امام حسین کے مرکزی صدر مہر شاہد عباس اور علامہ مجاہد عباس گردیزی نے کہا کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں ایک بار پھر شدید دہشت گردانہ حملے نے ملکی امن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اس حملے سے نہ صرف عام شہری بلکہ قومی ادارے بھی گہرے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں مسجد و امام بارگاہ پر خودکش حملے میں سینکڑوں افراد شہید اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے، حملہ نمازیوں پر نمازِ جمعہ کے وقت کیا گیا، جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اس نوعیت کے حملے صرف بے گناہوں کی جانیں لینے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے امن، معاشی استحکام اور عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی سازش ہوتے ہیں جس کے اثرات پوری پاکستانی قوم محسوس کرتی ہے۔امن اور سلامتی کے اعلیٰ حکام نے اس حملے کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد ملک میں بدامنی پھیلانے کے منظم منصوبے پر کام کر رہے ہیں دہشت گرد گروہ بیرونی اشاروں اور غیر ملکی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے زیرِ اثر پاکستانی معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ہر پاکستانی فکرمند ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی تنظیم لائسنس داران امام حسین کے زیر اہتمام اسلام آباد کے سانحہ ترلائی کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ مرکزی تنظیم لائسنس داران امام حسین کے زیر اہتمام اسلام آباد کے سانحہ ترلائی کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت مرکزی تنظیم لائسنس داران امام حسین کے مرکزی صدر مہر شاہد عباس چاون،حاجی طاہر بلوچ نمبردار،شاہد صدیقی،قمر عباس نقوی نے کی اس موقع پر مظاہرین نے ہے ہماری درسگاہ کربلا کربلا،حق کا سیدھا راستہ کربلا کربلا،تم کس کس کو مرواؤ کہ یہ ساری قوم حسینی ہے کے نعرے لگائے مہر شاہد عباس نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم، وزیرِداخلہ اور دفاعی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ا سلام آباد کے سانحہ ترلائی کے تمام دہشت گرد وں کو فوری گرفتار کر کے عبرت کا نشان بنایا جائے دہشت گرد ملک کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہیں پاکستان میں بدامنی کے واقعات کی وجہ سے علاقائی تناومیں اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشت گرد گروہ سرحد پار سے تربیت اور معاونت حاصل کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔حاجی طاہر بلوچ نمبردار،شاہد صدیقی،قمرعباس نقوی ودیگر مقررین نے کہا کہ بار بار دہشت گردانہ حملے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو ا جیرن بنا رہے ہیں،ملک میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں تیز رفتاری لانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک حملہ نہیں بلکہ امن و امان کو نقصان پہنچانے اورپاکستانی معاشرے کو خوفزدہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ دہشت گرد عناصر کی سازشیں نہ صرف ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ عوامی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔