ایک ہی ملک، دو مناظر اسلام آباد کا غم اور لاہور کی خوشیوں کا تضاد

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ایک ہی دن، ایک ہی ملک، مگر دو بالکل مختلف تصویریں۔ ایک طرف اسلام آباد میں دھماکہ، سجدوں میں جھکے لوگ، بکھرا ہوا خون، لرزتی ہوئی فضا اور سوگوار چہرے؛ اور دوسری طرف لاہور میں بسنت، رنگ برنگی پتنگیں، موسیقی، قہقہے، چھتوں پر جشن اور خوشیوں کا شور۔ یہ تضاد محض مناظر کا نہیں، ریاستی ترجیحات، انتظامی سوچ اور اجتماعی رویّوں کا آئینہ بھی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والا دھماکہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا زخم ابھی ہرا ہے، امن اب بھی نازک ہے اور ہر بے احتیاطی قیمتی جانوں کو نگل سکتی ہے۔ وہاں غم تھا، خوف تھا، سوال تھے۔ سوال یہ کہ کب تک عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہوں گی؟ کب تک شہری اپنی جان کے تحفظ کے لیے دعاؤں پر مجبور رہیں گے؟ کب تک ریاستی طاقت اور حکمتِ عملی ایک مکمل ڈھال بننے میں ناکام رہے گی؟
اسی لمحے لاہور میں بسنت منائی جا رہی تھی۔ سرکاری سطح پر تقریبات، اعلانیہ یا نیم اعلانیہ سرگرمیاں، چھتوں پر ہجوم، پتنگوں کی ڈوریں، موسیقی اور ایک تاثر کہ شہر جشن کے موڈ میں ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش رنگ منظر تھا، مگر اس منظر کے پیچھے وہ تلخ حقیقت بھی موجود تھی جسے نظر انداز کیا گیا—جانی اور مالی نقصانات۔
بسنت کے انہی دنوں میں لاہور کے مختلف علاقوں سے زخمی ہونے، موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹنے، بچوں اور نوجوانوں کے لہو لہان ہونے اور املاک کے نقصان کی خبریں بھی آئیں۔ کیمیائی اور دھاتی ڈور نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ لاپرواہی، کمزور نگرانی اور نمائشی انتظامات کا خمیازہ عام شہری بھگتتے ہیں۔ مقدمات درج ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں، مگر سوال اپنی جگہ قائم رہا: اگر تہوار منانا تھا تو کیا حفاظت، قانون اور انسانی جانوں کو اولین ترجیح دی گئی؟
یہاں مسئلہ بسنت کا ہونا یا نہ ہونا نہیں، مسئلہ تضاد اور توازن کا ہے۔ ایک طرف ریاست غم کے مناظر سمیٹ رہی تھی، دوسری طرف خوشی کے اسٹیج سجا دیے گئے۔ ایک طرف سوگ، دوسری طرف جشن—مگر دونوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی، کوئی اخلاقی یا انتظامی ہم وزن پن دکھائی نہ دیا۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ قومی سطح پر ایک حساس لمحے میں جشن کی نوعیت، شدت اور دائرہ کار پر نظرِ ثانی کی جاتی؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اگر بسنت منانی ہی تھی تو اسے سخت قوانین، مؤثر نگرانی اور صفر برداشت کے اصول کے تحت محفوظ بنایا جاتا؟
لاہور کی بسنت ایک ثقافتی روایت ہے، اس سے انکار نہیں۔ مگر روایت وہی زندہ رہتی ہے جو انسانی جان کی حرمت کے ساتھ نبھائی جائے۔ جس تہوار میں خوشی کے ساتھ خون بھی بہے، وہ جشن نہیں، انتظامی ناکامی کا اعلان ہوتا ہے۔ مقدمات کا اندراج اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ نقصان ہوا، اور نقصان معمولی نہیں تھا۔ مالی نقصانات نے غریب گھرانوں کو متاثر کیا، زخمیوں نے اسپتالوں کے چکر لگائے، اور خوف نے ایک بار پھر شہری زندگی میں جگہ بنا لی۔
اسلام آباد کے غم نے ہمیں اتحاد، احتیاط اور سنجیدگی کا پیغام دیا تھا۔ لاہور کی خوشیوں نے اگر اسی سنجیدگی کے ساتھ قانون اور تحفظ کو ساتھ رکھا ہوتا تو تصویر مختلف ہوتی۔ ریاست کا کام صرف تقریبات کرانا یا پابندیاں لگانا نہیں، بلکہ ایسے فیصلے کرنا ہے جن میں خوشی بھی ہو اور سلامتی بھی، روایت بھی ہو اور ذمہ داری بھی۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم ایک ہی ملک میں بیک وقت غم اور خوشی کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھال سکتے ہیں؟ کیا ہم تہوار مناتے ہوئے انسانی جان کی قیمت یاد رکھ سکتے ہیں؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر آئندہ فیصلوں میں تضاد نہیں، توازن دکھانا ہوگا—ورنہ ہر بسنت کے ساتھ مقدمات بھی درج ہوں گے، اور ہر جشن کے سائے میں کوئی نہ کوئی غم جنم لیتا رہے گا۔