ملتان (صفدربخاری سے) معروف صنعت کار اور سابق صدر ایوان تجارت و صنعت ملتان میاں راشد اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کا چھ نکاتی معاشی ایجنڈہ بہترین نتائج لا سکتا ہے لیکن اس کے لئے حکومت کو اپنا عزم دکھانا ہوگا،نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر اہداف پورے ہوں گے نہ ہی ملک معاشی طور پر طاقتور بن کاابھر سکتا ہے میاں راشد اقبال نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو برآمد کنندگان کو ریلیف دینا ہوگا۔اسی طرح مقامی کاروبار وں کی ترقی کے لئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ،معاشی سر گرمیاں عروج پکڑنے سے ٹیکس محصولات کے اہداف پورے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کرنے کیلئے مراعاتی سکیمیں دی جائیں انہوں نے مزید کہا کہملکی انڈسٹری بینک کرپٹ ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا، پاکستان اپنی تاریخ کے سب بدترین صنتعی بحران کے دہانے پر، ملک میں نئے صنعتی یونٹ نہ لگ سکے، ملکی صنعتوں سے متعلق انکشاف کیا کہ اس وقت جو یونٹ چل رہے تھے وہ بھی بند ہورہے ہیں، زیادہ شرح سود اور ٹیکسز کی وجہ سے انڈسٹری کے بینک کرپٹ ہونے کا خدشہ ہے۔جب کوئی کمائے گا تو کام کرے گا، جب کمائے گا ہی نہیں تو کام کون کرے گا، جبکہ انتہائی بلند شرح ٹیکس رکھیں گے تو کون کام کرے گا، ان حالات میں انڈسٹری کا چلنا خطرناک ہے، ملک میں نئی انڈسٹری کیا لگے گی بلکہ پرانے انڈسٹری یونٹس بھی بند ہو رہے ہیںملٹی نیشنل کمپنیاں تیزی سے جا رہی ہیں۔ تیزی سے ڈی انڈسٹریلائزیشن ہورہی ہے۔ پاکستان کیلئے ناقابلِ سرمایہ کاری ملک کے الفاظ مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہیں۔ سال2019میں نجی سرمایہ کاری 706 ارب روپے تھی جو 2025ء میں کم ہوکر377 ارب روپے رہ گئی ہے یعنی تقریباً آدھی رہ گئی ہے۔حکومتی ادارے خود اعلان کر رہے ہیں کہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح گزشتہ 21 برس کی بلند ترین سطح پر جا چکی ہے”۔دوسری جانب صنعتوں کے شہر میں صنعتوں کی بدترین تباہی، ملکی انڈسٹری قبرستان میں تبدیل ہو رہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے فرار ہو رہی ہیں، پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، انڈسٹری اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے اس کو بچا لیں۔ کاروباری حالات ملکی حالات اور اکانومی کو بزنس کمیونٹی نے ہی چلانا ہے۔ہم تاجر ہیں ہم حکو مت کے خلاف نہیں ہیں، اگر غلط کام کریں گے تو ہم بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے 150 ٹیکسٹائل یونٹس بند ہوگئے ہیں،۔۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 11.24 ٹریلین ٹیکس اکٹھا کیا، حکومت نے 8 ٹریلین ٹیکس سود میں دیا انہو نے کہا کہ اس سال حکومت نے پچھلے سال سے زائد تین فیصد ٹیکس لینا ہے، ہم ٹیکس دینے کے خلاف نہیں لیکن جو ٹیکس نہیں دیتے ان سے لیں۔انہوں نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے فرار ہو رہی ہیں، یہ ہمارا ملک ہے ہم مل کر اسے ٹھیک کریں گے۔