ملتان: ورلڈ انٹر فیتھ ہارمنی ویک کے موقع پر کیتھولک چرچ میں پروقار تقریب
ملتان : کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی و بین الکلیساءمکالمہ کے زیرِ اہتمام ورلڈ انٹر فیتھ ہارمنی ویک کے موقع پر کیتھولک چرچ ملتان میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی تقریب کی صدارت کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی و بین الکلیساءمکالمہ پاکستان کے چیئرمین بشپ یوسف سوہن نے کی جبکہ سی سی آئی ڈی کے نیشنل ڈائریکٹر سیموئیل کلیمنٹ مہمانِ خصوصی تھے تقریب میں فادر ڈینیئل تاج (ڈائریکٹر)، علامہ ابوبکر عثمان الازہری، پروفیسر عبدالماجد وٹو، علامہ سید مجاہد عباس گردیزی، بشارت عباس قریشی، ملک عمر کمبوہ ایڈووکیٹ، راو ¿ محمد عارف رضوی، پیر عبید صدر پوری، حنا سلمان، ملک اللہ داد ایڈووکیٹ، راو ¿ عبدالقیوم شاہین، مس فائقہ وٹو، امروز گل، سرفراز کلیمنٹ، شازر گل سمیت مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی تقریب کا مقصد مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے، رواداری، باہمی احترام اور امن کے فروغ کو اجاگر کرنا تھامقررین نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے بغیر پائیدار امن اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اس موقع پر چیئرمین کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی و بین الکلیساءمکالمہ بشپ یوسف سوہن نے کہا کہ ورلڈ انٹر فیتھ ہارمنی ویک ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ تمام مذاہب محبت، امن، خدمتِ انسانیت اور باہمی احترام کا درس دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو قوموں اور معاشروں کو قریب لاتا ہے بشپ یوسف سوہن نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی رہنماو ¿ں اور سماجی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت اور تعصب کے خلاف آواز بلند کریں اور نئی نسل کو برداشت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کا پیغام دیں انہوں نے کہا کہ کیتھولک چرچ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ہمیشہ فعال کردار ادا کرتا رہے گا کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی و بین الکلیساءمکالمہ پاکستان کے نیشنل ڈائریکٹر سیموئیل کلیمنٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مذہبی و ثقافتی تنوع میں ہے، اور اسی تنوع کو طاقت میں بدلنے کی ضرورت ہے سیموئیل کلیمنٹ نے کہا کہ نوجوانوں کو امن، برداشت اور مکالمے کی تعلیم دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایک پ ±رامن اور مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے رہنماو ¿ں اور سول سوسائٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اجتماعات معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔





































Visit Today : 431
Visit Yesterday : 577
This Month : 5681
This Year : 53517
Total Visit : 158505
Hits Today : 2966
Total Hits : 710965
Who's Online : 4



















