دارالحکومت میں بہتا ہوا خون اور ریاستی خاموشی
تحریر: پریزیڈنٹ بی بی سی ریکارڈ لندن ڈاکٹر سید ذوالفقار حسین
دارالحکومت میں بہتا ہوا خون اور ریاستی خاموشی
ترلائی کلاں سانحہ، حکومتی ذمہ داریاں اور عالمی ضمیر کا سوال
6 فروری کو امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ، ترلائی کلاں اسلام آباد میں پیش آنے والا دہشت گردی کا ہولناک واقعہ محض ایک اور سانحہ نہیں تھا، بلکہ یہ واقعہ ریاستِ پاکستان کی رِٹ، انٹیلیجنس صلاحیت اور شہریوں کے تحفظ کے دعوؤں پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔ یہ سانحہ کسی دور افتادہ علاقے میں نہیں بلکہ پاکستان کے دارالحکومت، کیپیٹل سٹی کی حدود میں پیش آیا، جہاں 70 سے زائد بے گناہ شہری شہید اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
یہ وہ شہری تھے جو جمعہ کی نماز کے دوران، حالتِ سجدہ میں، اللہ کے حضور جھکے ہوئے تھے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ شیعانِ علیؑ تھے۔
ریاست کہاں تھی؟
اتنے بڑے سانحے کے باوجود قوم نے یہ دیکھا کہ:
نہ وزیراعظم جائے وقوعہ پر نظر آئے
نہ آرمی چیف کی جانب سے کوئی عملی موجودگی سامنے آئی
نہ ہی فوری طور پر شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کے لیے کسی واضح اور مؤثر مالی امدادی پیکج کا اعلان کیا گیا
یہ وہی حکومت ہے جو چھوٹے سے چھوٹے واقعات پر بھی فوری اجلاس، بیانات اور امدادی پیکجز کا اعلان کرتی ہے۔
تو پھر یہ سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے:
کیا ترلائی کلاں میں شہید ہونے والے پاکستانی شہری نہیں تھے؟
کیا ان کا خون کم قیمتی تھا؟
یا مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھتے تھے؟
یہ محض غفلت نہیں، کھلا انٹیلیجنس فیلیر ہے
دارالحکومت میں، ایک حساس عبادت گاہ میں، جمعہ کے دن، اتنے بڑے دہشت گرد حملے کا ہونا اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ:
یہ ایک سنگین انٹیلیجنس فیلیر تھا
پیشگی معلومات، نگرانی اور سیکیورٹی پلاننگ ناکام رہی
ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی
بین الاقوامی قوانین کے مطابق، خصوصاً اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) اور بین الاقوامی شہری و سیاسی حقوق کے معاہدے (ICCPR) کے تحت، ریاست پر لازم ہے کہ وہ تمام شہریوں کو بلا امتیاز جان، مذہب اور عبادت کے تحفظ کی ضمانت دے۔
اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس اور دوٹوک مؤقف
اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، صدر BBC Record London ڈاکٹر سید ذوالفقار حسین نے نہایت واضح، مدلل اور دوٹوک انداز میں کہا:
> “یہ وقت رسمی بیانات، تعزیتی پیغامات یا خانہ پُری کا نہیں بلکہ فوری، عملی اور فیصلہ کن اقدامات کا ہے۔ اگر ریاست اپنے دارالحکومت میں اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو یہ محض ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک سنگین اخلاقی، آئینی اور قانونی ناکامی بن جاتا ہے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ:
حکومتِ پاکستان فوری طور پر تمام شہداء کے ورثاء کے لیے اعلیٰ درجے کا مالی امدادی پیکج اعلان کرے
تمام زخمیوں کے علاج، بحالی اور مستقبل کے تحفظ کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے
سانحے کی شفاف، غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرائی جائیں
اور شیعہ شہریوں کو واضح پیغام دیا جائے کہ وہ اس ریاست کے برابر کے شہری ہیں، نہ کہ سوتیلے
یہ مسلکی نہیں، شہری حقوق کا مسئلہ ہے
یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جانی چاہیے کہ: یہ کسی ایک مسلک کا مسئلہ نہیں
یہ پاکستانی شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کا سوال ہے
جب ریاست ایک مخصوص طبقے کے دکھ پر خاموشی اختیار کرتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے شہریوں کو مایوس کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
نتیجہ: خاموشی بھی جرم کے برابر ہے
ترلائی کلاں کے شہداء کا خون آج پوری قوم سے سوال کر رہا ہے۔
اگر آج دارالحکومت میں شہید ہونے والوں کے لیے انصاف، توجہ اور مالی امداد نہیں دی جاتی، تو کل کوئی بھی شہری محفوظ نہیں ہوگا۔
ریاست کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ: خاموشی بھی ایک مؤقف ہوتی ہے — اور بعض اوقات یہ جرم کے برابر ہوتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ حکومتِ پاکستان:
اپنی آئینی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری پوری کرے
شیعانِ علیؑ سمیت تمام شہریوں کو برابر کا شہری تسلیم کرے
اور فوری طور پر مالی امداد، انصاف اور تحفظ کا عملی ثبوت دے
یہی ریاست کی بقا، وقار اور انصاف کا تقاضا ہے۔





































Visit Today : 431
Visit Yesterday : 577
This Month : 5681
This Year : 53517
Total Visit : 158505
Hits Today : 2928
Total Hits : 710927
Who's Online : 4



















