ملتان کے پارک: لائٹس کی چمک، سبزے کی کمی اور خاموش ہوتے پرندے
ملتان کے پارک: لائٹس کی چمک، سبزے کی کمی اور خاموش ہوتے پرندے
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملتان شہر میں پارکوں کو روشن کرنے کے لیے لائٹس لگانا بظاہر ایک خوش آئند اور خوبصورتی بڑھانے والا اقدام ہے کیونکہ رات کے وقت یہ روشنی شہریوں کے لیے پارکوں کو قابلِ استعمال بناتی ہے اور شہر کی ظاہری دلکشی میں اضافہ کرتی ہے لیکن اگر ہم ذرا گہرائی میں جا کر دیکھیں تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ صرف لائٹس لگانا کسی شہر یا پارک کو صحت مند اور پائیدار نہیں بنا سکتا کیونکہ پارکوں کی اصل روح دن کے وقت موجود سبزہ، درخت، پودے، پھول اور قدرتی ماحول ہے جو شہریوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہیں پارکوں میں سبزہ نہ صرف تازہ ہوا فراہم کرتا ہے بلکہ آلودگی کم کرنے، درجہ حرارت میں کمی لانے اور ذہنی سکون دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہی وہ عناصر ہیں جو ایک شہر کو رہنے کے قابل بناتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملتان سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں درختوں کی تیزی سے کمی، گرین بیلٹس کی نظراندازی اور جدید باغبانی کے فقدان نے نہ صرف شہریوں بلکہ قدرتی حیات کو بھی شدید متاثر کیا ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال پرندوں کی تعداد میں واضح کمی کی صورت میں سامنے آ رہی ہے جو کسی بھی شہر کے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے پہلے شہر کے پارک، سڑکیں اور خالی پلاٹ پرندوں کی چہچہاہٹ سے آباد ہوتے تھے مگر آج وہ آوازیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں کیونکہ درخت کم ہو چکے ہیں اور اب پارکوں میں رات بھر جلنے والی تیز لائٹس نے پرندوں کے لیے ان جگہوں کو رات گزارنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا روشنی کا حد سے زیادہ استعمال پرندوں کی قدرتی زندگی کو متاثر کرتا ہے کیونکہ پرندے اندھیرے اور خاموشی میں آرام کرتے ہیں اور جب پارکوں میں پوری رات لائٹس جلتی رہیں تو وہ نہ تو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی وہاں رکنے کے قابل رہتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ قدرتی پرندے آہستہ آہستہ شہروں کو چھوڑ دیتے ہیں یا ختم ہوتے جا رہے ہیں جو ایک ماحولیاتی المیہ ہے کیونکہ پرندے نہ صرف قدرتی حسن کی علامت ہیں بلکہ وہ کیڑے مکوڑوں کے خاتمے، بیج پھیلانے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں حکومت پنجاب کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ پارکوں میں لائٹس لگانا اگر بغیر منصوبہ بندی کے کیا جائے تو یہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس پہلو کا سنجیدگی سے نوٹس لے کہ پارکوں کو روشن کرتے ہوئے پرندوں اور قدرتی حیات کے لیے بھی سازگار ماحول برقرار رکھا جائے کیونکہ اگر یہی روشنی کا بے دریغ استعمال جاری رہا اور درختوں کی کمی کو پورا نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے شہر قدرتی پرندوں سے مکمل طور پر خالی ہو جائیں گے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا لہذا ضروری ہے کہ پارکوں میں جدید باغبانی کے اصول اپنائے جائیں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے گرین بیلٹس کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور لائٹس کے استعمال کو متوازن رکھا جائے تاکہ رات کی خوبصورتی بھی برقرار رہے اور پرندوں کے لیے قدرتی ماحول بھی محفوظ رہے یہ ممکن ہے کہ پارکوں میں ایسی لائٹنگ لگائی جائے جو کم روشنی والی ہو یا مخصوص اوقات کے بعد بند کر دی جائے تاکہ پرندے سکون سے وہاں قیام کر سکیں اور شہری بھی ایک قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں کیونکہ شہر صرف انسانوں کا نہیں بلکہ پرندوں اور دیگر جانداروں کا بھی مسکن ہوتا ہے اور اگر ہم نے ترقی کے نام پر قدرتی حیات کو نظر انداز کیا تو اس کے نتائج ہمارے اپنے ماحول اور صحت پر بھی مرتب ہوں گے لائٹس رات کی خوبصورتی تو بڑھا سکتی ہیں مگر یہ موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، درجہ حرارت میں اضافے اور قدرتی حیات کے خاتمے کا حل نہیں ہیں ان مسائل کا واحد حل سبزہ، درخت، باغبانی اور ماحول دوست منصوبہ بندی ہے لہذا حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ پارکوں کو محض روشن کرنے کے بجائے انہیں حقیقی معنوں میں زندہ بنائیں جہاں دن کے وقت سبزہ شہریوں کو صحت دے اور رات کے وقت ایسا ماحول ہو جو پرندوں اور قدرتی حیات کے لیے بھی محفوظ ہو کیونکہ جب تک شہر میں سبزہ اور پرندوں کی آوازیں زندہ ہیں تب تک شہر واقعی زندہ سمجھا جاتا ہے اور یہی وہ توازن ہے جسے برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔





































Visit Today : 431
Visit Yesterday : 577
This Month : 5681
This Year : 53517
Total Visit : 158505
Hits Today : 2976
Total Hits : 710975
Who's Online : 4



















