تجاوزات اور ٹریفک کا جن پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

پاکستان کے بڑے شہروں میں تجاوزات اور ٹریفک کے مسائل کوئی نئی بات نہیں، مگر پنجاب کے مختلف شہروں میں یہ مسئلہ اب ایک سنجیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ روزانہ کے معمولات میں شہریوں کو جو مشکلات درپیش ہیں، وہ صرف غیر معمولی نہیں بلکہ ہر روز کے معمولات کا حصہ بن چکی ہیں۔ اگر واقعی پنجاب حکومت تجاوزات کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہی ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہر میں تجاوزات ختم کیوں نہیں ہوئیں؟
شہر کے مختلف علاقوں میں جہاں روڈز پہلے سے ہی تنگ ہیں، وہاں ریڑھی والے اور غیر قانونی دکانیں کھڑی کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ روزانہ حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ صرف محکمہ بنا دینا اور اختیارات دے دینا مسائل کا حل نہیں ہے۔ اصل حل تو روزانہ بنیاد پر مؤثر کارروائی میں پوشیدہ ہے۔ اگر پیرا فورس اور متعلقہ ادارے دن میں ایک یا دو بار ہی کارروائی کرتے ہیں، تو یہ محض دکھاوا بن کر رہ جاتا ہے۔
شہر کے اندر کئی اہم چوک اور چوراہے ایسے ہیں جہاں تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ عام مسئلہ بن چکی ہیں۔ مثال کے طور پر وہاڑی چوک، کمہاڑاں والا چوک، اور حسین اگاہی چوک میں ہر وقت روڈز بند رہتی ہیں۔ یہاں نہ صرف گاڑیوں کا گزرنا مشکل ہے بلکہ پیدل چلنے والے شہری بھی خطرات سے دوچار ہیں۔ ایسے علاقوں میں اگر وقتاً فوقتاً آگاہی بورڈز لگائے جائیں اور نمبرز فراہم کیے جائیں تاکہ شہری اور دکاندار قانون کے مطابق عمل کریں، تو حالات میں خاطر خواہ بہتری آ سکتی ہے۔
ایک اور پہلو جو قابل توجہ ہے، وہ یہ ہے کہ تجاوزات اور غیر قانونی کاروبار کی نگرانی محض ایک محکمہ یا پیرا فورس کے ہاتھ میں چھوڑ دینا ناکافی ہے اس میں ٹریفک پولیس اور سیف سٹی اتھارٹی کی بھی نگرانی کو یقینی بنایا جائے ان اداروں کی رائے کے ساتھ ساتھ تاجروں اور شہریوں کی رائے کو بھی مد نظر رکھنا چاہیئے تاکہ عوام کو آگاہ کرنا، تعلیم دینا، اور ان پر دباؤ ڈالنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ قانونی کارروائی کرنا۔ اگر آگاہی مہم اور قانون دونوں ساتھ ساتھ چلیں تو شہری خود بھی قانون کے پابند بن سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہری قانون کو نظر انداز کرنے میں آزاد ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کارروائی یا تو نامکمل ہوگی یا پھر ایک دن کے لیے ہوگی اور اگلے دن دوبارہ صورتحال معمول پر آ جائے گی۔
روزانہ حادثات میں اضافے کی بڑی وجہ یہی نااہلی اور غیر مؤثر انتظام ہے۔ جہاں تجاوزات کی وجہ سے گاڑیوں کی روانی متاثر ہوتی ہے، وہاں نہ صرف ٹریفک جام ہوتا ہے بلکہ گاڑیوں کے درمیان تصادم کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے چوراہوں میں بھی کبھی کبھار ریڑھی والے، غیر قانونی پارکنگ، اور تجاوزات کے باعث ٹریفک کا بہاؤ رک جاتا ہے، اور نتیجتاً شہریوں کا روزانہ کا معمول متاثر ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہریوں کی زندگی کے لیے خطرناک ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔
اگر پیرا فورس واقعی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتی ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ نہ صرف روزانہ کارروائی کریں بلکہ شہر کے ہر اہم چوک اور علاقے میں مستقل بنیاد پر موجود رہیں۔ صرف چند دن کی کارروائی اور پھر چھٹی لے لینا یا محض دفتری کارروائی کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ ٹریفک کے مسائل، تجاوزات، اور روزانہ حادثات میں کمی صرف مسلسل نگرانی اور مؤثر انتظام سے ممکن ہے۔
علاوہ ازیں، آگاہی بورڈز لگانا ایک بنیادی ضرورت ہے۔ شہری اور دکاندار اکثر یہ نہیں سمجھتے کہ تجاوزات کے نتیجے میں نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ بورڈز اور معلوماتی پیغامات شہریوں کو یہ سمجھانے میں مدد دیتے ہیں کہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہر کسی کے مفاد میں ہے۔ نمبرز فراہم کرنا اور شہریوں کو رابطے کا موقع دینا، مثلاً کسی بھی خلاف ورزی یا شکایت کی اطلاع دینے کا نظام، نہ صرف شہریوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے بلکہ اداروں کے لیے بھی مسئلہ حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اگر محکمہ پیرا فورس اور متعلقہ ادارے واقعی ذمہ دار ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ تجاوزات کے خاتمے کو روزانہ کی بنیاد پر یقینی بنائیں، آگاہی مہم کو مؤثر طریقے سے چلائیں، اور شہریوں کے تعاون سے ٹریفک اور تجاوزات کے مسائل پر قابو پائیں۔ یہ صرف حکومتی کارروائی کا معاملہ نہیں، بلکہ شہریوں کی زندگی اور حفاظت کا بھی سوال ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ تجاوزات اور غیر قانونی دکانوں کا مسئلہ صرف قانون کی کمی یا کمزوری نہیں ہے، بلکہ اس میں انتظامی ناکامی اور شہری شعور کی کمی بھی شامل ہے۔ اگر پنجاب حکومت اور متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کریں، تو نہ صرف تجاوزات ختم کی جا سکتی ہیں بلکہ روزانہ حادثات کی شرح میں بھی واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ شہر کے ہر چوک، چوراہے، اور مصروف سڑک پر مستقل نگرانی، آگاہی بورڈز، اور مؤثر کارروائی کے ذریعے حالات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت، پیرا فورس، اور شہری مل کر تجاوزات اور ٹریفک کے مسائل کا حل تلاش کریں۔ بصورت دیگر، ہر دن بڑھتے حادثات اور بند سڑکیں شہریوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بن کر رہ جائیں گے