بسنت: ایک ہندو احتجاج
بسنت: ایک ہندو احتجاج
تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت
(کالم نگار و تجزیہ نگار)
برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں چند روایات ایسی ہیں جو بظاہر موسموں کی تبدیلی کا جشن معلوم ہوتی ہیں، مگر ان کی تہوں میں مذہبی، سیاسی اور تاریخی تنازعات کے گہرے نشانات پوشیدہ ہیں۔ “بسنت” بھی ایک ایسی ہی روایت ہے، جس کا تعلق بہار کی آمد سے جوڑا جاتا ہے۔ سنسکرت زبان کے لفظ ‘وسنت’ سے ماخوذ یہ لفظ اپنے اندر فصلوں کی شادابی، فطرت کی تجدید اور زرد رنگ کی علامتیں رکھتا ہے۔ لیکن کیا بسنت محض ایک موسمی جشن ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی ایسا تاریخی زخم ہے جسے ہم تفریح کے نام پر کریدتے چلے آ رہے ہیں؟
ایک تاریخی و مذہبی تنازع
بسنت کی موجودہ شکل کے پیچھے اٹھارہویں صدی کے اوائل کا ایک انتہائی حساس واقعہ کارفرما ہے، جو مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کے دور میں سیالکوٹ کے مقام پر پیش آیا۔ تاریخی روایات کے مطابق، ایک مدرسے میں ہندو اور مسلم طلبہ کے درمیان ہونے والے مذہبی مباحثے نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب حضرت فاطمہ الزہراؓ کی شان میں مبینہ طور پر نازیبا کلمات ادا کیے گئے۔ اس واقعے کا ذمہ دار ایک ہندو طالب علم ‘حقیقت رائے’ کو ٹھہرایا گیا۔
معاملہ جب لاہور کے حاکم نواب زکریا خان کی عدالت میں پہنچا، تو انہوں نے اسے سیاسی رنگ دینے کے بجائے شرعی قاضی کے سپرد کر دیا۔ قاضیِ شہر نے گواہوں اور شواہد کی روشنی میں فیصلہ سنایا کہ توہینِ مذہب کے جرم میں حقیقت رائے کو سزائے موت دی جائے، تاہم اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اس کی جان بخشی ممکن ہے۔ حقیقت رائے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس پر اسے موت کی سزا دے دی گئی۔
احتجاج جو روایت بن گیا
اس فیصلے کے خلاف ہندو برادری نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ لالا سوہن لعل سوری کی “عمدۃ التواریخ” اور گنیش داس وڈیرہ کی “چار باغِ پنجاب” جیسے مستند تاریخی ماخذات گواہ ہیں کہ اس پھانسی کے دن احتجاجاً زرد لباس پہنا گیا اور فضا میں پتنگیں اڑائی گئیں۔ وقت کی دھول نے اس احتجاجی رنگ کو آہستہ آہستہ “جشنِ بسنت” کے لبادے میں چھپا دیا اور یہ غم کا اظہار ایک مستقل ثقافتی روایت بن گیا۔
بعد ازاں، سکھ دورِ حکومت میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے شاہی سرپرستی دی، اور برطانوی دور میں اسے ایک تجارتی میلے کی شکل دے دی گئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں اسے “لاہور کی پہچان” بنا کر پیش کیا گیا، مگر افسوس کہ اس کے تاریخی پس منظر کو فراموش کر دیا گیا۔
تفریح یا خاموش قتل؟
گزشتہ چند دہائیوں میں بسنت محض ایک ثقافتی اختلاف نہیں رہی، بلکہ “کیمیکل ڈور” اور “مانجھے” کے استعمال نے اسے ایک خونی کھیل میں بدل دیا ہے۔ وہ دھاگا جس پر شیشہ اور صنعتی کیمیکلز کا لیپ ہوتا ہے، تفریح کے نام پر معصوم بچوں، راہگیروں اور موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کاٹنے کا آلہ بن چکا ہے۔ یہ محض حادثات نہیں بلکہ “خاموش قتل” ہیں، جو ہماری اجتماعی لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔
شاہینیات: شعور کی ضرورت
اسلام خوشی اور مسرت کا مخالف نہیں ہے، لیکن اسلام کا ہر عمل شعور اور اخلاقیات کے تابع ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ:
کیا ہم ایسی روایت کا حصہ بن رہے ہیں جس کی بنیادیں ہی مذہبی تصادم پر استوار ہیں؟
کیا انسانی جان سے بڑھ کر بھی کوئی تفریح ہو سکتی ہے؟
کیا زرد رنگ کے لبادے میں ہم اپنی تہذیبی شناخت تو نہیں کھو رہے؟
تفریح جب غیر اسلامی عقائد سے جڑ جائے اور انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بنے، تو وہ خوشی نہیں بلکہ “فتنہ” بن جاتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی تہوار کی حقیقت اور اس کے انجام کو ضرور سمجھیں۔ یاد رکھیے! شعور کے بغیر منائی جانے والی خوشی اکثر المیے پر ختم ہوتی ہے۔





































Visit Today : 431
Visit Yesterday : 577
This Month : 5681
This Year : 53517
Total Visit : 158505
Hits Today : 2966
Total Hits : 710965
Who's Online : 4



















