بسنت لاہور کے لیے،، پابندیاں باقی پنجاب کے لیے؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پنجاب میں ایک بار پھر بسنت کا چرچا ہے مگر اس بار یہ چرچا خوشی سے زیادہ سوالات کو جنم دے رہا ہے، سوال یہ نہیں کہ بسنت ہونی چاہیے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر بسنت منانے کی اجازت ہے تو صرف لاہور کے لیے کیوں، اور اگر یہ تہوار واقعی خطرناک ہے تو پھر لاہور میں اسے سرکاری سرپرستی، مکمل سیکیورٹی اور ریاستی وسائل کے ساتھ کیوں منایا جا رہا ہے جبکہ ملتان، بہاولپور، لیہ، بھکر، راجن پور اور دیگر اضلاع میں اسی بسنت کے نام پر چھاپے، گرفتاریاں اور سخت کارروائیاں کیوں کی جا رہی ہیں، یہ کیسا تضاد ہے کہ ایک ہی صوبے میں دو الگ پالیسیاں نافذ ہیں، ایک طرف لاہور میں سرکاری اخراجات پر تہوار، کنسرٹس، میڈیا کوریج اور خصوصی انتظامات جبکہ دوسری طرف باقی اضلاع میں “پتنگ بازی پر زیرو ٹالرنس” کے اعلانات، کیا پنجاب کے شہریوں کی جان، خوشی اور ثقافت کی تعریف اب جغرافیے سے مشروط ہو چکی ہے، ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے کئی شہروں میں اطلاعات ہیں کہ پتنگیں بنانے کی اجازت دی جا رہی ہے مگر اڑانے پر مکمل پابندی ہے، اگر پتنگ خطرناک ہے تو اس کی تیاری کی اجازت کیوں اور اگر یہ محفوظ ہے تو پھر اسے صرف لاہور میں اڑانے کی اجازت کیوں، یہ پالیسی کم اور کنفیوژن زیادہ محسوس ہوتی ہے اور بدقسمتی سے اس کنفیوژن کی قیمت ہمیشہ عام شہری ادا کرتا ہے، بسنت کو ماضی میں اس لیے روکا گیا تھا کہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، دھاتی ڈور نے موٹر سائیکل سواروں کی زندگیاں نگل لیں، بجلی کا نظام متاثر ہوا اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی، یہ تمام خدشات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں، اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، محفوظ ڈور اور مؤثر انتظام کے ذریعے ان خطرات پر قابو پا لیا گیا ہے تو پھر یہ سہولت صرف لاہور تک کیوں محدود ہے، کیا ملتان کے پاس آسمان نہیں، کیا بہاولپور کے شہری خوشی کے مستحق نہیں، کیا جنوبی پنجاب کی عوام صرف پابندیوں کے لیے ہیں اور تہوار صرف دارالحکومت کا حق بن چکے ہیں، یہ تاثر بھی تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے کہ بسنت کو ایک ثقافتی روایت کے بجائے سیاسی اور تشہیری ایونٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے، چونکہ لاہور اقتدار، میڈیا اور طاقت کا مرکز ہے اس لیے ہر پائلٹ پروجیکٹ وہیں آزمایا جاتا ہے اور باقی پنجاب کو صرف نتائج بھگتنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ رویہ احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے اور احساسِ محرومی کسی بھی صوبے یا ریاست کے لیے نیک شگون نہیں ہوتا، چند دن کے لیے پابندیاں نرم یا سخت کرنے سے نہ تو جانیں محفوظ ہوتی ہیں اور نہ ہی قانون کا احترام بڑھتا ہے، قانون وہی مؤثر ہوتا ہے جو برابر، مستقل اور منصفانہ ہو، یا تو بسنت پورے پنجاب میں واضح ضابطوں اور محفوظ انتظام کے ساتھ منائی جائے یا پھر پورے صوبے میں یکساں پابندی ہو، درمیان کی پالیسی یعنی لاہور کے لیے اجازت اور باقی اضلاع کے لیے سزا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، حکومتِ پنجاب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب سوال کرتی ہے، موازنہ کرتی ہے اور تضادات کو پہچانتی ہے، سوشل میڈیا کے دور میں یہ ممکن نہیں کہ ایک شہر میں جشن ہو اور باقی صوبہ خاموش رہے، یہ معاملہ صرف بسنت کا نہیں بلکہ برابری، انصاف اور شہری حقوق کا ہے، اگر حکومت واقعی بسنت کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے لاہور کی چھتوں سے نکال کر پورے پنجاب کے آسمان تک لے جانا ہوگا، واضح قوانین، محفوظ ڈور، سخت نگرانی اور مساوی نفاذ کے ساتھ، اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر سچ بولنا ہوگا کہ بسنت اب ثقافت نہیں بلکہ ایک مخصوص شہر کا خصوصی استحقاق بن چکی ہے، فیصلہ حکومت کو کرنا ہے مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تہوار بانٹنے سے خوشی بڑھتی ہے اور امتیاز بانٹنے سے صرف ناراضگیاں جنم لیتی ہیں۔